فقہ المسیح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 267 of 611

فقہ المسیح — Page 267

فقه المسيح مہر رنامہ رجسٹری کروانا 267 نکاح حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب تحریر کرتے ہیں کہ خاکسار عرض کرتا ہے کہ جب ہماری ہمشیرہ مبارکہ بیگم کا نکاح حضرت صاحب نے نواب محمد علی خان صاحب کے ساتھ کیا تو مہر چھپن ہزار (56000) روپیہ مقرر کیا گیا تھا اور حضرت صاحب نے مہر نامہ کو با قاعدہ رجسٹری کروا کر اس پر بہت سے لوگوں کی شہادتیں ثبت کروائی تھیں اور جب حضرت صاحب کی وفات کے بعد ہماری چھوٹی ہمشیرہ امۃ الحفیظ بیگم کا نکاح خان محمد عبد اللہ خان صاحب کے ساتھ ہوا تو مہر (15000) مقرر کیا گیا اور یہ مہر نامہ بھی با قاعدہ رجسٹری کرایا گیا تھا لیکن ہم تینوں بھائیوں میں سے جن کی شادیاں حضرت صاحب کی زندگی میں ہوگئی تھیں کسی کا مہر نامہ تحریر ہو کر رجسٹری نہیں ہوا اور مہر ایک ایک ہزار روپیہ مقرر ہوا تھا۔ دراصل مہر کی تعداد زیادہ تر خاوند کی موجودہ حیثیت اور کسی قدر بیوی کی حیثیت پر مقرر ہوا کرتی تھی اور مہر نامہ کا با قاعدہ لکھا جانا اور رجسٹری ہونا یہ شخصی حالات پر موقوف ہے۔ چونکہ نواب محمد علی خان صاحب کی جائیدا د سر کار انگریزی کے علاقہ میں واقع نہ تھی بلکہ ایک ریاست میں تھی اور اس کے متعلق بعض تنازعات کے پیدا ہونے کا احتمال ہو سکتا تھا۔ اس لئے حضرت صاحب نے مہر نامہ کو با قاعدہ رجسٹری کروانا ضروری خیال کیا اور ویسے بھی دیکھا جاوے تو عام حالات میں یہی بہتر امہ اگر رجسٹری نہ بھی ہو تو کم از کم با قاعدہ طور پر تحریر میں آجاوے اور معتبر لوگوں کی شہادتیں اس پر ثبت ہو جاویں۔ کیونکہ دراصل مہر بھی ایک قرضہ ہوتا ہے جس کی ادائیگی خاوند پر فرض ہوتی ہے۔ پس دوسرے قرضہ جات کی طرح اس کے لئے بھی عام حالات میں یہی مناسب ہے کہ وہ ضبط تحریر میں آجاوے۔ (سیرت المہدی جلد 1 صفحہ 338، 339)