فقہ المسیح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 235 of 611

فقہ المسیح — Page 235

فقه المسيح 235 قربانی کے مسائل قربانی کی حکمت فرمایا: قربانی کے مسائل خدا تعالیٰ نے شریعت اسلام میں بہت سے ضروری احکام کے لئے نمونے قائم کئے ہیں چنانچہ انسان کو یہ حکم ہے کہ وہ اپنی تمام قوتوں کے ساتھ اور اپنے تمام وجود وجود کے ساتھ خدا تعالیٰ کی راہ میں قربان ہو۔ پس ظاہری قربانیاں اسی حالت کے لئے نمونہ ٹھہرائی گئی ہیں لیکن اصل غرض یہی قربانی ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے لَنْ يَنَالَ اللَّهَ لُحُومُهَا وَلَا دِمَاؤُهَا وَلَكِن يَنَالُهُ التَّقْوَى مِنْكُمْ (الحج: 38) یعنی خدا کو تمہاری قربانیوں کا گوشت نہیں پہنچتا اور نہ خون پہنچتا ہے مگر تمہاری تقویٰ اس کو پہنچتی ہے ۔ یعنی اس سے اتنا ڈرو کہ گویا اس کی راہ میں مر ہی جاؤ اور جیسے تم اپنے ہاتھ سے قربانیاں ذبح کرتے ہو۔ اسی طرح تم بھی خدا کی راہ میں ذبح ہو جاؤ ۔ جب کوئی تقوی اس درجہ سے کم ہے تو ابھی وہ ناقص ہے۔ دلوں کی پاکیزگی سچی قربانی ہے چشمہ معرفت - روحانی خزائن جلد 23 صفحہ 99 حاشیہ ) لَنْ يَنَالَ اللَّهَ لُحُوْمُهَا وَلَا دِمَاؤُهَا وَلَكِنْ يَنَالُهُ التَّقْوَى مِنْكُمْ (اج:38) یعنی دلوں کی پاکیزگی سچی قربانی ہے گوشت اور خون سچی قربانی نہیں جس جگہ عام لوگ جانوروں کی قربانی کرتے ہیں خاص لوگ دلوں کو ذبح کرتے ہیں۔ (براہین احمدیہ حصہ پنجم ۔ روحانی خزائن جلد 21 صفحہ 424) قربانی میں دیگر مذاہب پر اسلام کی فضیلت عید الاضحیہ کا خطبہ دیتے ہوئے ( جو خطبہ الہامیہ کے نام سے معروف ہے )