فقہ المسیح — Page 234
فقه المسيح 234 مج اگر آپ چالیس روز تک رو بحق ہو کر بشرائط مندرجہ نشان آسمانی استخارہ کریں تو میں آپ کے لئے دعا کروں گا۔ کیا خوب ہو کہ یہ استخارہ میرے روبرو ہوتا میری توجہ زیادہ ہو۔ آپ پر کچھ ہی مشکل نہیں لوگ معمولی اور نفلی طور پر حج کرنے کو بھی جاتے ہیں مگر اس جگہ نفلی حج سے ثواب زیادہ ہے اور غافل رہنے میں نقصان اور خطر کیونکہ سلسلہ آسمانی ہے اور حکم ربانی ۔ ( آئینہ کمالات اسلام - روحانی خزائن جلد 5 صفحہ 351، 352) وفات یافتہ کی طرف سے حج بدل خوشاب سے ایک مرحوم احمدی کے ورثاء نے حضرت کی خدمت میں خط لکھا کہ مرحوم کا ارادہ پختہ حج پر جانے کا تھا مگر موت نے مہلت نہ دی۔ کیا جائز ہے کہ اب اس کی طرف سے کوئی آدمی خرچ دے کر بھیج دیا جاوے؟ فرمایا: جائز ہے۔ اس سے متوفی کو ثواب حج کا حاصل ہو جائے گا۔“ )2( بدر 2 مئی 1907ء صفحہ حضرت مسیح موعود کی طرف سے بھی آپ کی وفات کے بعد حج بدل کروایا گیا ۔ حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب تحریر کرتے ہیں کہ مجھ سے حضرت والدہ صاحبہ نے بیان کیا کہ ایک دفعہ آخری ایام میں حضرت مسیح موعود نے میرے سامنے حج کا ارادہ ظاہر فرمایا تھا۔ چنانچہ میں نے آپ کی وفات کے بعد آپ کی طرف ۔ ف سے حج کروا دیا۔ (حضرت والدہ صاحبہ نے حافظ احمد اللہ صاحب مرحوم کو بھیج کر حضرت صاحب کی طرف سے حج بدل کروایا تھا ) اور حافظ صاحب کے سارے اخراجات والدہ صاحبہ نے خود برداشت کئے تھے۔ حافظ صاحب پرانے صحابی تھے اور اب عرصہ ہوا فوت ہو چکے ہیں۔ (سیرت المہدی جلد 1 صفحہ 45) ایک اور روایت سے پتہ چلتا ہے کہ حافظ احمد اللہ خان صاحب حج بدل سے پہلے خود بھی حج ( سیرت حضرت اماں جان حصہ دوم از شیخ محمود احمد صاحب عرفانی صفحه (249) کر چکے تھے۔