فقہ المسیح — Page 179
فقه المسيح 179 نماز جنازہ اور تدفین جاوے تو کہے السَّلَامُ عَلَيْكُمْ يَا أَهْلَ الْقُبُورِ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُسْلِمِينَ وَإِنَّا إِنْ شَاءَ اللَّهُ بِكُمْ لَلَاحِقُونَ “ 66 قبر پر جا کر کیا دعا کرنی چاہئیے؟ )1( بدر 31 اکتوبر 1905ء صفحہ( حضرت مسیح موعود کے سفر دہلی کا ذکر کرتے ہوئے ایڈیٹر صاحب اخبار بدر لکھتے ہیں: خواجہ باقی باللہ کے مزار پر جب ہم پہنچے تو وہاں بہت سی قبریں ایک دوسرے کے قریب قریب اور اکثر زمین کے ساتھ ملی ہوئی تھیں۔ میں نے غور سے دیکھا کہ حضرت اقدس نہایت احتیاط سے ان قبروں کے درمیان سے چلتے تھے تا کہ کسی کے اوپر پاؤں نہ پڑے۔ قبر خواجہ صاحب پر پہنچ کر آپ نے دونوں ہاتھ اٹھا کر دعا کی اور دعا کولمبا کیا۔ بعد دعا میں نے عرض کی کہ قبر پر کیا دعا کر نی چاہیے تو فرمایا : وو ” صاحب قبر کے واسطے دعائے مغفرت کرنی چاہیے اور اپنے واسطے بھی خدا تعالیٰ سے دعا مانگنی چاہیے۔ انسان ہر وقت خدا کے حضور دعا کرنے کا محتاج ہے۔“ قبر کے سرہانے کی طرف ایک نظم خواجہ صاحب مرحوم کے متعلق لکھی ہے۔ بعد دعا آپ نے جہ صاحب من وہ نظم پڑھی اور عاجز راقم کو حکم دیا کہ اس کو نقل کر لو۔ اور کوحکم دیا کہ کرلو۔ ایک اور موقع پر اخبار بدر کے ڈائری نولیس لکھتے ہیں : )1( بدر 31 اکتوبر 1905ء صفحہ حضرت مسیح موعود عليه الصلاة والسلام مع خدام سیر کرنے کے واسطے صبح باہر نکلے تو حضرت مولوی عبد الکریم صاحب مرحوم کی قبر پر تشریف لے گئے جہاں آپ نے ہاتھ اُٹھا کر دعا مانگی ۔ بعد دعا کے ایک شخص نے چند سوال کئے جو اس کالم میں درج کرنے کے لائق ہیں۔ سوال ۔ قبر پر کھڑے ہو کر کیا پڑھنا چاہئے؟