فقہ المسیح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 178 of 611

فقہ المسیح — Page 178

فقه المسيح 178 نماز جنازہ اور تدفین - ترقی پکڑتا ہے اس واسطے سب لوگ اس کے ارد گرد جمع نہ ہوں ۔ حسب ضرورت دو تین آدمی اس کی چار پائی کو اُٹھائیں اور باقی سب دور کھڑے ہو کر مثلاً ایک سوگز کے فاصلہ پر جنازہ پڑھیں ۔ جنازہ ایک دعا ہے اور اس کے واسطے ضروری نہیں کہ انسان میت کے سر پر کھڑا ہو۔ جہاں قبرستان دور ہو مثلاً لاہور میں سامان ہو سکے تو کسی گاڑی یا چھکڑے پر میت کو لاد کر لے جاویں اور میت پر کسی قسم کی جزع فزع نہ کی جاوے۔ خدا تعالیٰ کے فعل پر اعتراض کرنا گناہ ہے۔ (بدر 4 اپریل 1907 ء صفحہ 6) صبح کے وقت زیارت قبور سنت ہے حضرت مسیح موعود کے سفر دہلی کا ذکر کرتے ہوئے ایڈیٹر صاحب اخبار بدر لکھتے ہیں: صبح حضرت مسیح موعود مردانہ مکان میں تشریف لائے ۔ دہلی کی سیر کا ذکر درمیان میں آیا۔ فرمایا: لہو ولعب کے طور پر پھر نا درست نہیں البتہ یہاں بعض بزرگ اولیاء اللہ کی قبریں ہیں ۔ ان پر ہم بھی جائیں گے۔ فرمایا: ایسے بزرگوں کی فہرست بناؤ تا کہ جانے کے متعلق انتظام کیا جائے۔ حاضرین نے یہ نام لکھائے ۔ (1) شاہ ولی اللہ صاحب (2) خواجہ نظام الدین صاحب (3) جناب قطب الدین صاحب (4) خواجہ باقی باللہ صاحب (5) خواجہ میر درد صاحب (6) جناب نصیر الدین صاحب چراغ دہلی ۔ چنانچہ گاڑیوں کا انتظام کیا گیا اور حضرت بمع خدام گاڑیوں میں سوار ہو کر سب سے اول حضرت خواجہ باقی باللہ کے مزار پر پہنچے۔ راستہ میں حضرت نے زیارت قبور کے متعلق فرمایا: قبرستان میں ایک روحانیت ہوتی ہے اور صبح کا وقت زیارت قبور کے لیے ایک سنت ہے۔ یہ ثواب کا کام ہے اور اس سے انسان کو اپنا مقام یاد آجاتا ہے۔ انسان اس دنیا میں مسافر ہے۔ آج زمین پر ہے تو کل زمین کے نیچے ہے۔ حدیث شریف میں آیا ہے کہ جب انسان قبر پر