فقہ المسیح — Page 169
فقه المسيح 169 نماز جمعہ اور عید پڑھائی اور ہر دو رکعت میں سورۃ فاتحہ سے پیشتر سات اور پانچ تکبیریں کہیں اور ہر تکبیر کے ساتھ حضرت اقدس علیہ السلام نے گوش مبارک تک حسب دستور اپنے ہاتھ اُٹھائے ۔ عیدین کی تکبیرات البدر 9 جنوری 1903 ء صفحہ 85) و حضرت پیر سراج الحق نعمانی صاحب ” پیارے احمد کی پیاری پیاری باتیں“ کے عنوان کے تحت تحریر فرماتے ہیں :۔ مجھے خوب یاد ہے نماز عیدین تو حضرت خلیفہ اول ہی پڑھایا کرتے تھے۔ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے مجھے بڑ کے درخت کے نیچے جا کر فرمایا کہ ہمیشہ تو مولوی نورالدین صاحب نماز پڑھاتے ہیں ۔ آج سید محمد احسن صاحب کو کہہ دیں کہ یہ نماز پڑھا دیں اور خطبہ بھی یہی پڑھا دیں۔ میں نے یہ بات خلیفہ اول سے کہہ دی ، انہوں نے فرمایا کہ بہتر ہے۔ پھر حضرت اقدس علیہ السلام نے فرمایا کہ مولوی صاحب (امروہی ) آج تم نماز پڑھاؤ۔ پس مولوی صاحب نے نماز پڑھائی۔ نماز سے پہلے مولوی صاحب نے عرض کیا کہ بخاری میں اول رکعت میں سات تکبیریں اور دوسری میں پانچ تکبیریں بھی آئی ہیں ۔ ارشاد ہو تو کروں؟ حضرت اقدس نے فرمایا کہ کیا مضائقہ ہے، بے شک اب ایسا ہی کرو۔ بات یہ ہے کہ ہمیشہ اسی طرح سے عید کی نماز پڑھی جاتی تھی جیسے کہ حنفی تین تکبیریں کہتے ہیں ۔ مگر اس سال سے سات اور پانچ تکبیریں عام رائج ہو گئیں ۔ خطیب اور امام الگ الگ ہو سکتے ہیں حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب تحریر کرتے ہیں کہ مسجد اقصیٰ میں پہنچ کہ )6 الحکم مورخہ 14 تا 21 مئی 1919 صفحہ( رض معمول مخدومنا حضرت مولانا مو مولوی عبدالکریم صاحب کی اقتدا اقتداء میں نماز عید ایک خاصے مجمع سمیت ادا فرمائی مگر خطبہ عید حضرت اقدس نے دیا۔ (سیرت المہدی جلد 2 صفحہ 367)