فقہ المسیح — Page 159
فقه المسيح 159 نماز جمعہ اور عید حضرت نے فرمایا ”جائز ہے۔“ 6 جمعہ کے لئے جماعت ضروری ہے )3( بدر 5 ستمبر 1907ء صفحہ( ایک صاحب نے بذریعہ خط استفسار فرمایا تھا کہ وہ صرف اکیلے ہی اس مقام پر حضرت اقدس سے بیعت ہیں جمعہ تنہا پڑھ لیا کریں یا نہ پڑھا کریں حضرت اقدس نے فرمایا: جمعہ کے لئے جماعت کا ہونا ضروری ہے ۔ اگر دو آدمی مقتدی اور تیسرا امام اپنی جماعت کے ہوں تو نماز جمعہ پڑھ لیا کریں ۔ وَإِلَّا نہ (سوائے احمدی احباب کے دوسرے کے ساتھ جماعت اور جمعہ جائز نہیں ۔ ) اپنا جمعہ الگ پڑھو البدر 9 جنوری 1903 ء صفحہ (83) سوال پیش ہوا کہ بعض مساجد اس قسم کی ہیں کہ وہاں احمدی اور غیر احمدی کو اپنی جماعت اپنے امام کے ساتھ الگ الگ کرا لینے کا اختیار قانونا یا باہمی مصالحت سے حاصل ہوتا ہے تو ایسی جگہ جمعہ کے واسطے کیا کیا جاوے؟ کیونکہ ایک مسجد میں دو جمعے جائز نہیں ہو سکتے ۔ فرمایا :۔ جو لوگ تم کو کافر کہتے ہیں اور تمہارے پیچھے نماز نہیں پڑھتے وہ تو بہر حال تمہاری اذان اور تمہاری نماز جمعہ کو اذان اور نماز سمجھتے ہی نہیں اس واسطے وہ تو پڑھ ہی لیں گے اور چونکہ وہ مومن کو کافر کہہ کر بموجب حدیث خود کا فر ہو چکے ہیں ۔ اس واسطے تمہارے نزدیک بھی ان کی اذان اور نماز کا عدم وجود برابر ہے۔ تم اپنی اذان کہو اور اپنے امام کے ساتھ اپنا جمعہ پڑھو۔ نماز جمعہ کے بعد احتیاطی نماز )2( بدر 2 مئی 1907ء صفحہ( ایک شخص کا سوال پیش ہوا کہ بعض لوگ جمعہ کے بعد احتیاطی پڑھتے ہیں ۔ اس کے متعلق کیا حکم ہے؟ فرمایا :۔