فقہ المسیح — Page 158
فقه المسيح 158 نماز جمعہ اور عید قبل دو رکعت پڑھیں لیکن ایک اور حدیث ہے جو حضرت عائشہؓ سے مروی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم چار رکعت گھر میں پڑھ کر آتے تھے گو بخاری و مسلم نے چار سنتوں والی روایات کو ترجیح دی ہے لیکن دوسنتیں پڑھنا بھی جائز ہے۔ حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ ظہر کی جماعت سے پہلے ہمیشہ چار سنتیں پڑھا کرتے تھے۔ میں بھی چار ہی پڑھتا ہوں کیونکہ اللہ نے طاقت دی ہے تو کیوں نہ پڑھیں لیکن حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو میں نے سینکڑوں دفعہ دیکھا ہے اور متواتر دیکھا ہے۔ آپ ظہر سے پہلے ہمیشہ دو رکعت سنت پڑھا کرتے تھے۔ دراصل حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی یہ دو رکعت ہماری ہزاروں رکعتوں کے برابر تھیں ۔ گویا حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے حدیث سے جو اقل سنتیں ثابت ہیں وہی پڑھی ہیں تا کہ باقی وقت آپ تبلیغ اسلام میں صرف کریں۔ کیا دو افراد کا جمعہ ہو سکتا ہے؟ الفضل 10 دسمبر 1929ء صفحه (7) یہ مسئلہ پیش ہوا کہ دو احمدی کسی گاؤں میں ہوں تو وہ بھی جمعہ پڑھ لیا کریں یا نہ؟ مولوی محمد احسن صاحب سے خطاب فرمایا تو انہوں نے عرض کیا کہ دو سے جماعت ہو جاتی ہے ۔ اس لئے جمعہ بھی ہو جاتا ہے فرمایا : ہاں پڑھ لیا کریں۔ فقہاء نے تین آدمی لکھے ہیں اگر کوئی اکیلا ہو تو وہ اپنی بیوی وغیرہ کو پیچھے کھڑا کر کے تعداد پوری کر سکتا ہے ۔“ 66 )5( بدر 14 مارچ 1907ء صفحہ ( اسی طرح ایک دوسرے موقع پر سوال پیش ہوا کہ نماز جمعہ کے واسطے اگر کسی جگہ صرف ایک دو مرد احمدی ہوں اور کچھ عورتیں ہوں تو کیا یہ جائز ہے کہ عورتوں کو جماعت میں شامل کر کے نماز جمعہ ادا کی جائے۔