درثمین مع فرہنگ — Page 82
نشان اسلام اسلام سے نہ بھاگو راہ ہدی یہی ہے اے سونے والو! جاگو شمس الضحی ہی ہے مُجھ کو قسم خُدا کی جس نے ہمیں بنایا اب آسمان کے نیچے دین خدا یہی ہے وہ داستان نہاں ہے کیسی رہ سے اُس کو دیکھیں ان مشکلوں کا یارو ! مشکل کشا ہی ہے باطن سید ہیں جن کے اس دیں سے ہیں وہ منکر پر اسے اندھیرے والو ! دل کا دیا ہی ہے دنیا کی سب دُکانیں ہیں ہم نے دکھی بھالیں سب خشک ہو گئے ہیں جتنے تھے باغ پہلے آخر ہوا یہ ثابت دار الشفا ہی ہے ہر طرف میں نے دیکھا بستاں ہرا ہی ہے f 82