درثمین مع فرہنگ — Page 81
قادیان کے آریہ آریوں پر ہے صد ہزار افسوس دل میں آتا ہے بار بار افسوس ہو گئے حق کے سخت نافرماں کر دیا دیں کو قوم پر قرباں وه نشاں جس کی روشنی سے جہاں ہو کے بیدار ہو گیا کرتاں ان نشانوں سے ہیں یہ انکاری پر کہاں تک چلے گی طراری ان کے باطن میں راک اندھیرا ہے رکین و نخوت نے آکے گھیرا ہے لڑ رہے ہیں خُدائے یکتا سے باز آتے نہیں ہیں غوغا سے قوم کے خوف سے وہ مرتے ہیں سو نیشاں دیکھیں کب وہ ڈرتے ہیں موت لیکھو بڑی کرامت ہے پر سمجھتے نہیں یہ شامت ہے میر مالک ! تو ان کو خود سمجھا آسماں سے پھر اک نشاں دکھلا قادیان کے آریہ اور ہم ٹائیٹل پیج صفحہ ۲ مطبوعہ شائد / روحانی خزائن جلد ۲۰ ص ۴۱۸) 81