درثمین مع فرہنگ — Page 56
یہی امید ہے اے میرے ہادی فَسُبْحَانَ الَّذِي أَخْرَى الْأَعَادِي نہ دیکھیں وہ زمانہ بے کسی کا مصیبت کا ، الم کا ، بے بسی کا یہ ہو ، میں دیکھ لوں تقویٰ سبھی کا جب آوے وقت میری واپسی کا بشارت تو نے پہلے سے سنا دی فَسُبْحَانَ الَّذِي اخْزَى الْأَعَادِي ہمیں اُس یار سے تقویٰ عطا ہے نہ یہ ہم سے کہ احسان خُدا ہے کرد کوشش اگر صدق و صفا ہے کہ یہ حاصل ہو جو شرط لقا ہے ہی آئینہ خالق نما ہے ہیں اک جوہر سیف دُعا ہے الہامی مصرع ہر اک نیکی کی جڑ یہ اتنا ہے اگر یہ جڑ رہی سب کچھ راہی سر ہے" یہی اک فخر شانِ اولیاء ہے بجز تقویٰ زیادت ان میں کیا ہے ڈرو یارو کہ وہ بینا خدا ہے اگر سوچو ، یہی دار الجزاء ہے مجھے تقویٰ سے اُس نے یہ جزا دی فَسُبْحَانَ الَّذِي أَخْزَى الْأَعَادِي عجب گوہر ہے جس کا نام تقوی مبارک وہ ہے جس کا کام تقویٰ سنو! ہے حاصل اسلام تقوی خدا کا عشق ھے اور جام تقوی 56