درثمین مع فرہنگ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 54 of 320

درثمین مع فرہنگ — Page 54

مرے مولی مری یہ اک دعا ہے تری درگاہ میں عجز و بکا ہے وہ دے مجھ کو جو اس دل میں بھرا ہے زباں چلتی نہیں شرم وحیا ہے ہر اک کو دیکھ لوں وہ پارسا ہے مری اولاد جو تیری عطا ہے تری قدرت کے آگے روک کیا ہے وہ سب دے ان کو جو مجھ کو دیا ہے عجب محسن ہے تو سحر الآیا دی فَسُبْحَانَ الَّذِي أَخْزَى الْأَعَادِي نجات اُن کو عطا کر گندگی سے برأت ان کو عطا کر بندگی سے رہیں خوش حال اور فرخندگی سے بچانا اے خدا ! بد زندگی سے وہ ہوں میری طرح دیں کے منادی فَسُبْحَانَ الَّذِي أَخْزَى الْأَعَادِي عیاں کر اُن کی پیشانی پر اقبال نہ آوے اُن کے گھر تک رُعب دقبال بچانا اُن کو ہر غم سے بہر حال نہ ہوں وہ دکھ میں اور پنجوں میں پامال یہی اُمید ہے دل نے بتا دی فَسُبْحَانَ الَّذِي اخْزَى الْأَعَادِي دعا کرتا ہوں اسے میرے لیگانہ نہ چھوڑیں وہ ترا یہ آستانہ نہ آوے اُن پر رنجوں کا زمانہ میرے مولیٰ انہیں ہر دم بچانا 54