درثمین مع فرہنگ — Page 51
15 معرفت حق آواز آ رہی ہے یہ فونوگراف سے ڈھونڈو خُدا کو دل سے نہ لاف گزاف سے جب تک عمل نہیں ہے دل پاک صاف سے کمتر نہیں یہ مشغلہ ثبت کے طواف سے حاصل ہی کیا ہے جنگ و جدال خلاف سے سے باہر اگر نہیں دل مردہ خلاف وہ دیں ہی کیا ہے جس میں خدا سے نشاں نہ ہو تائید حق نہ ہو مدد آسماں نہ ہو مذہب بھی ایک کھیل ہے جب تک یقیں نہیں جو نور سے تہی ہے خدا سے وہ دیں نہیں دین خدا وہی ہے جو دریائے تو رہے جو اس سے دور ہے وہ خدا سے بھی دور ہے دین خُدا وہی ہے جو ہے وہ خدا نما کس کام کا وہ ہیں جو نہ ہوئے گرہ کشتا جن کا یہ دیں نہیں ہے نہیں اُن میں کچھ بھی دم دنیا سے آگے ایک بھی چلتا نہیں قدم وہ لوگ جو کہ معرفت حق میں خام ہیں ثبت ترک کر کے پھر بھی بتوں کے غلام ہیں 51 اخبار الحکم ۲۴ نومبر)