درثمین مع فرہنگ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 189 of 320

درثمین مع فرہنگ — Page 189

6 وہ جو تھے اونچے محل اور وہ جو تھے قصر ہیں پست ہو جائیں گے جیسے پست ہو اک جائے غار ایک ہی گردش سے گھر ہو جائیں گے مٹی کا ڈھیر جس قدر جانیں تلف ہوں گی نہیں اُن کا شمار پر خدا کا رحم ہے کوئی بھی اُس سے ڈر نہیں اُن کو جو جھکتے ہیں اس درگہ پہ ہو کر خاکسار یہ خوشی کی بات ہے رب کام اُس کے ہاتھ ہے وہ جو ہے دھیما غضب میں اور ہے آمرزگار کب یہ ہوگا ؟ یہ خدا کو علم ہے پر اس قدر دی خبر مجھ کو کہ وہ دن ہوں گے ایام بہار "پھر بہار آئی خدا کی بات پھر پوری ہوئی" یہ خُدا کی وحی ہے اب سوچ او اسے ہوشیار یاد کر فرقان سے لفظ زُلْزِلَتْ زِلْزَالَهَا ایک دن ہو گا وہی جو غیب سے پایا قرار سخت ماتم کے وہ دن ہوں گے مصیبت کی گھڑی ایک وہ دن ہوں گے نیکوں کے لئے شیریں آگ ہے پراگ سے ک سے وہ سب بچاتے جائیں گے جو کہ رکھتے ہیں خدائے ذو العجائب سے پیار انبیا سے بعض بھی اسے غافلو اچھا نہیں دور تر بہٹ جاؤ اس سے سے ریشیروں کی کچھار کیوں نہیں ڈرتے خدا سے کیسے دل اندھے ہوتے بے خُدا ہر گز نہیں بہا قیمتو کوئی سہار یہ نشان آخری ہے کام کر جاتے مگر ورنہ اب باقی نہیں ہے تم میں امید سُدھار آسماں پر ان دنوں قہر خدا کا بوش ہے کیا نہیں تم میں سے کوئی بھی رشید و ہو نہار اس نشاں کے بعد ایماں قابل عزت نہیں ایسا جامہ ہے کہ کو پوشوں کا جیسے ہو اُتار شمار 189