درثمین مع فرہنگ — Page 188
پیشگوئی جنگ عظیم یہ نشان زلزلہ جو ہو چکا منگل کے دن وہ تو اک لقمہ تھا جو تم کو کھلایا ہے نہار اک ضیافت سے بڑی اے غافلو کچھ دن کے بعد جس کی دیتا ہے خبر فرقاں میں رحماں بار بار فاسقوں اور فاجروں پر وہ گھڑی دشوار ہے جس سے قیمہ بن کے پھر رکھیں گے قیمہ کا بگھار خوب کھل جاتے گا لوگوں پہ کر دیں کس کا ہے دی پاک کر دینے کا تیرتھ کعبہ ہے یا ہر دوار وحی حق کے ظاہری لفظوں میں ہے وہ زلزلہ لیک ممکن ہے کہ ہو کچھ اور ہی قیموں کی مار کچھ ہی ہو پر وہ نہیں رکھتا زمانہ میں نظیر فوق عادت ہے کہ سمجھا جائے گا روز شمار یہ جو طاعوں ملک میں ہے اس کو کچھ نسبت نہیں اُس بلا سے وہ تو ہے اک حشر کا نقش و نگار وقت ہے تو بہ کرو جلدی مگر کچھ رحم ہو شست کیوں بیٹھے ہو جیسے کوئی پی کر کو کنار تم نہیں لوہے کے کیوں ڈرتے نہیں اُس وقہ سے جس سے پڑ جائے گی اک دم میں پہاڑوں میں بغار وہ تباہی آئے گی شہروں پہ اور دیہات پر جس کی دنیا میں نہیں ہے مثل کوئی زینهار ایک دم میں غم کرے ہو جائیں گے عشرت کرے شادیاں کرتے تھے جو پیٹیں گے ہو کر سوگوار 188