درثمین مع فرہنگ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 172 of 320

درثمین مع فرہنگ — Page 172

بات سب پوری ہوئی پر تم وہی ناقص رہے باغ میں ہو کر بھی قسمت میں نہیں دیں کے شمار دیکھ لو وہ ساری باتیں کیسی پوری ہو گئیں جن کا ہونا تھا بعید از عقل و فہم دانتکار اُس زمانہ میں ذرا سوچھ کہ میں کیا چیز تھا جس زمانہ میں برا ہیں کا دیا تھا اشتہار پھر ذرا سوچو کہ اب چرچا مرا کیسا ہوا کس طرح سرعت سے شہرت ہو گئی در ہر دیار جانتا تھا کون کیا عزت تھی پیک میں مجھے کیسی جماعت کی تھی مجھ سے کچھ ارادت یا پیار تھے رجوع خلق کے اسباب مال و علم و حکیم خاندان فقر بھی تھا باعث عز و وقار لیک ان چاروں سے میں محروم تھا اور بے نصیب ایک انسان تھا کہ خارج از حساب از شمار پھر رکھایا نام کافر ہو گیا مَطْعُونِ خلق کُفر کے فتووں نے مجھ کو کر دیا بے اعتبار اس پہ بھی میرے خدا نے یاد کر کے اپنا قول مربع عالم بنایا مجھ کو اور دین کا مدار سارے منصوبے جو تھے میری تباہی کے لئے کر دیے اُس نے تنبہ جیسے کہ ہو گردو غبار سوچ کر دیکھو کہ کیا یہ آدمی کا کام ہے کوئی بتلاتے نظیر اس کی اگر کرنا ہے وار سگر انسان کو مٹا دیتا ہے انسان دیگر پر خدا کا کام کب بگڑے کسی سے زینہار مفتری ہوتا ہے آخر اس جہاں میں روسیہ جلد تر ہوتا ہے کہ یتیم افترا کا کاروبار 172