درثمین مع فرہنگ — Page 171
دیکھ لو میل و محبت میں عجب تاثیر ہے ایک دل کرتا ہے جھک کر دوسرے دل کو شکار کوئی ره نزدیک تر راہ محبت سے نہیں لے کریں اس راہ سے سالک ہزاروں دشت خار اس کے پانے کا یہی اے دوستو اک راز ہے کیمیا ہے جس سے ہاتھ آجائے گا کر بے شمار تیر تاثیر محبت کا خطا جاتا نہیں تیر اندازو ! نہ ہونا سست اس میں زینہار ہے یہی اک آگ تائم کو بچاوے آگ سے ہے یہی پانی کر نکلیں جس سے صد با آبشار اس سے خود آکر ملے گا تم سے وہ یار ازن اس سے تم عرفان حق سے پہنو گے پھولوں کے ہار وہ کتاب پاک و برتر جس کا فرقال نام ہے وہ یہی دیتی ہے طالب کو بشارت بار بار جن کو ہے انکار اس سے سخت ناداں ہیں وہ لوگ آدمی کیونکر کہیں جب اُن میں ہے تحقق حمار کیا ہی اسلام کا ہے دوسے دینوں پہ فخر کر دیا قصوں پر سارا ختم دیں کا کاروبار مغز فرقان مطہر کیا یہی ہے زہد خشک کیا ہی چوہا ہے نکلا کھود کر یہ کو سہار گر یہی اسلام ہے لیس ہو گئی امت ہلاک کی طرح رہ مل سکے جب دیں ہی ہو تاریک و تار منہ کو اپنے کیوں بگاڑا نا اُمیدوں کی طرح فیض کے در کھل رہے ہیں اپنے دامن کو کیسار کس طرح کے تم کبیشتر ہو دیکھتے ہو صد نشاں پھر وہی ضد و تعصب اور وہی رکین و نقار 171