درثمین مع فرہنگ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 135 of 320

درثمین مع فرہنگ — Page 135

وو موسیٰ بھی بد گمانی سے شرمندہ ہو گیا قرآن میں، خضر نے جو کیا تھا، پڑھو ذرا بندوں میں اپنے بھید خُدا کے ہیں صد ہزار تم کو نہ علم ہے نہ حقیقت ہے آشکار پس تم تو ایک بات کے کہنے سے مر گئے یہ کیسی عقل تھی کہ براہِ خطر گئے بد بخت تر تمام جہاں سے وہی ہوا جو ایک بات کہہ کے ہی دوزخ میں جا گرا پس تم بچاؤ اپنی زبان کو فساد سے ڈرتے رہو عُقوبتِ رَبُّ العباد ” دو عضو اپنے جو کوئی ڈر کر بچائے گا سے سیدھا خُدا کے فضل سے جنت میں جائے گا وه راک زباں ہے ۔ عضو نہانی ہے دوسرا“ و پر وہ یہ ہے حدیث سیدنا سید انوری جو مجھ کو کاذب و مگار کہتے ہیں اور مفتری و کافید و بدکار کہتے ہیں 135