درثمین مع فرہنگ — Page 134
کچھ ایسے سو گئے ہیں ہمارے یہ ہم وطن اُٹھتے نہیں ہیں ہم نے تو سو سو کیئے جتن سب عضو سست ہو گئے غفلت ہی چھا گئی قوت تمام نوک زباں میں ہی آ گئی یا بد زباں دکھاتے ہیں یا ہیں وہ بد گماں باقی خبر نہیں ہے کہ اسلام ہے کہاں تم دیکھ کر بھی یک کو بچو بدگمان سے شاید تمھاری آنکھ ہی کر جائے کچھ خطا ڈرتے رہو عقاب خدائے جہان سے شاید وه ید نہ ہو ۔ جو تمھیں ہے وہ بدنما شاید تمھاری فہم کا ہی کچھ قصور ہو ! شاید وہ آزمائش رب غفور پھر تم تو بد گمانی سے اپنی ہوئے ہلاک ہو خود سر پر اپنے لے لیا ختم خُدائے پاک گر ایسے تم دلیریوں میں بے حیا ہوئے پھر اتقا کے، سوچو کہ معنے ہی کیا ہوئے 134