درثمین مع فرہنگ — Page 126
قصوں سے پاک ہونا کبھی کیا مجال ہے سچ جانو یہ طریق سراسر محال قصوں سے کب نجات ملے ہے گناہ سے ہے ممکن نہیں وصال خدا ایسی راہ سے مردہ سے کب اُمید کہ وہ زندہ کر سکے اُس سے تو خود محال کہ کہ بھی گذر سکے وہ کہ جو ذاتِ عَزَّ وَ جَل کو دکھاتی ہے وه ره جو دل کو پاک و مطبر بناتی ہے وہ رہ جو یار گم شدہ کو ڈھونڈ لاتی ہے وه رہ جو جام پاک یقین کا پلاتی ہے وه تازه قدرتیں جو خدا پر دلیل ہیں وہ زندہ طاقتیں جو یقیں کی سبیل ہیں ظاہر ہے یہ کہ قصوں میں ان کا اثر نہیں افسانہ گو کو راہ خدا کی خبر نہیں اُس بے نشاں کی چہرہ نمائی نیشاں سے ہے سچ ہے ہے کہ سب ثبوت خدائی نِشاں سے ہے 126