درثمین مع فرہنگ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 114 of 320

درثمین مع فرہنگ — Page 114

کچھ خبر لے تیرے کوچہ میں یہ کس کا شور ہے کیا مرے دلدار تو آئے گا مر جانے کے دن ڈوبنے کو ہے یہ کشتی ، آمرے آے ناخُدا آگئے اس باغ پر اسے یار مُرجھانے کے دن تیرے ہاتھوں سے مرے پیارے اگر کچھ ہو تو ہو ور نہ دیں میت ہے اور یہ دن ہیں دفنانے کے دن راک نیشان دکھلا کہ اب دیں ہو گیا ہے بے نشاں دل چلا ہے ہاتھ سے لا جلد ٹھہرانے کے دن میرے دل کی آگ نے آخر دکھایا کچھ اثر آگئے ہیں اب زمیں پر آگ بھڑکانے کے دن جب سے میرے ہوش غم سے دیں کئے ہیں جاتے رہے طور دنیا کے بھی بدلے ایسے دیوانے کے دن چاند اور سورج نے دکھلائے ہیں دو داغ کسوف پھر زمیں بھی ہو گئی بے تاب تھرانے کے دن کون روتا ہے کہ جس سے آسماں بھی رو پڑا لرزہ آیا اس زمیں پر اس کے چلانے کے دن 114