درثمین مع فرہنگ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 113 of 320

درثمین مع فرہنگ — Page 113

وہ گھڑی آتی ہے جب کیلئے پکاریں گے مجھے اب تو تھوڑے رہ گئے دجال کہلانے کے دن اے مرے پیارے ! یہی میری دعا ہے روز و شب گود میں تیری ہوں ہم اس خونِ دل کھانے کے دن کرم خاکی ہوں مرے پیارے نہ آدم زاد ہوں فضل کا پانی پلا اس آگ برسانے کے دن اسے مرے یار بیگانہ ! اسے مری جاں کی پناہ ! کر وہ دن اپنے کرم سے دیں کے پھیلانے کے دن پھر بہار دیں کو دکھلا اے میرے پیارے قدیر! کب تلک دیکھیں گے ہم لوگوں کے بہکانے کے دن دن چڑھا ہے دُشمنانِ دیں کا ہم پر رات ہے اے مرے سورج دکھا اس دیں کے چمکانے کے دن دل گھٹا جاتا ہے ہر دم جاں بھی ہے زیر و زیر راک نظر فرما کہ جلد آئیں ترے آنے کے دن چہرہ دکھلا کر مجھے کر دیجئے غم سے رہا کب تلک لمبے چلے جائیں گے ترسانے کے دن 113