درثمین مع فرہنگ — Page 110
اتمام حجت نشاں کو دیکھ کر انکار کب تک پیشیں جائے گا رے اک اور جھوٹوں پر رقیامت آنے والی ہے یہ کیا عادت ہے کیوں سچی گواہی کو چھپاتا ہے تری راک روز اسے گستاخ ا شامت آنے والی ہے ترے مکروں سے اسے جاہل امرا نقصاں نہیں ہرگز کہ یہ جاں آگ میں پڑھ کر سلامت آنے والی ہے اگر تیرا بھی کچھ دیں ہے بدل دے جو میں کہتا ہوں کہ عزت مجھ کو اور تجھ پر ملامت آنے والی ہے بہت بڑھ بڑھ کے باتیں کی ہیں تو نے اور چھپا یا حق مگر یہ یاد رکھ اک دن ندامت آنے والی ہے خُدا رُسوا کرے گا تم کو ۔ میں اعزاز پاؤں گا سنو اے منکرو ! اب یہ کرامت آنے والی ہے 110