دُرِّثمین اُردو — Page 94
۹۴ آنکھ اُس کی دُور ہیں ہے دل یار سے قریں ہے ہاتھوں میں شمع دیں ہے عین الضیاء یہی ہے جو رازِ دیں تھے بھارے اُس نے بتائے سارے دولت کا دینے والا فرماں روا یہی ہے اُس ٹور پر فدا ہوں اُس کا ہی میں ہوا ہوں وہ ہے میں چیز کیا ہوں بس فیصلہ یہی ہے وہ دلبر یگانہ علموں کا ہے خزانہ باقی ہے سب فسانہ سچ بے خطا یہی ہے سب ہم نے اُس سے پایا شاہد ہے تو خدایا وہ جس نے حق دکھایا وہ مہ لقا یہی ہے ہم تھے دلوں کے اندھے سو سو دِلوں میں پھندے پھر کھولے جس نے بندے وہ مجتبی یہی ہے اے میرے ربّ رمس تیرے ہی ہیں یہ احساں مشکل ہو تجھ سے آساں ہر دم رجا یہی ہے لے بندے سے مراد اس جگہ قفل ہے۔ چونکہ اس جگہ کوئی شاعری دکھلا نا منظور نہیں اور نہ میں یہ نام اپنے لئے پسند کرتا ہوں ۔ اس لئے بعض جگہ میں نے پنجابی الفاظ استعمال کئے ہیں اور ہمیں صرف اردو سے کچھ غرض نہیں اصل مطلب امر حق کو دلوں میں ڈالنا ہے۔ شاعری سے کچھ تعلق نہیں ہے۔ منہ