دُرِّثمین اُردو

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 91 of 195

دُرِّثمین اُردو — Page 91

۹۱ وہ دن گئے کہ راتیں کٹتی تھیں کر کے باتیں آب موت کی ہیں گھاتیں غم کی کتھا یہی ہے جلد آپیارے ساقی اب کچھ نہیں ہے باقی دے شربت تلاقی حرص و ہوا یہی ہے شکر خدائے رحماں! جس نے دیا ہے قرآں غنچے تھے سارے پہلے اب گل کھلا یہی ہے کیا وصف اس کے کہنا ہر حرف اس کا گہنا دلبر بہت ہیں دیکھے دل لے گیا یہی ہے دیکھی ہیں سب کتابیں مجمل ہیں جیسی خواہیں خالی ہیں اُن کی قابیں خوانِ ہدی یہی ہے اُس نے خدا ملایا وہ یار اُس سے پایا راتیں تھیں جتنی گذریں اب دن چڑھا یہی ہے اُس نے نشاں دکھائے طالب سبھی بلائے سوتے ہوئے جگائے بس حق نما یہی ہے پہلے صحیفے سارے لوگوں نے جب بگاڑے دُنیا سے وہ سدھارے نوشہ نیا یہی ہے