دُرِّثمین اُردو

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 90 of 195

دُرِّثمین اُردو — Page 90

۹۰ ہم نے ہے جس کو مانا قادر ہے وہ توانا اُس نے ہے کچھ دکھانا اس سے رجا یہی ہے ان سے دو چار ہونا عزّت ہے اپنی کھونا ان سے ملاپ کرنا راہ ریا یہی ہے بس اے مرے پیارو! عقبی کو مت بسارو اس دیں کو پاؤ یارو بدر الد جے یہی ہے میں ہوں ستم رسیدہ اُن سے جو ہیں رمیدہ شاہد ہے آپ دیدہ واقف بڑا یہی ہے : میں دِل کی کیا سُناؤں کس کو یہ غم بتاؤں دُکھ درد کے ہیں جھگڑے مجھ پر بلا یہی ہے دیں کے غموں نے مارا اب دل ہے پارہ پارہ دلبر کا ہے سہارا ورنہ فنا یہی ہے ہم مر چکے ہیں غم سے کیا پوچھتے ہو ہم سے اس یار کی نظر میں شرط وفا یہی ہے برباد جائیں گے ہم گر وہ نہ پائیں گے ہم رونے سے لائیں گے ہم دل میں رجا یہی ہے