دُرِّثمین اُردو

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 83 of 195

دُرِّثمین اُردو — Page 83

۸۳ جاں بھی ہے ان پہ قرباں گر دِل سے ہوویں صافی پس ایسے بدگنوں کا مجھ کو گلا یہی ہے احوال کیا کہوں میں اس غم سے اپنے دل کا گویا کہ ان غموں کا مہماں سرا یہی ہے لیتے ہی جنم اپنا دشمن ہوا یہ فرقہ آخر کی کیا اُمیدیں جب ابتدا یہی ہے دل پھٹ گیا ہمارا تحقیر سُنتے سنتے غم تو بہت ہیں دل میں پر جاں گزا یہی ہے دنیا میں گرچہ ہو گی سو قسم کی بُرائی پاکوں کی ہتک کرنا سب سے بُرا یہی ہے غفلت پہ غافلوں کی روتے رہے ہیں مُرْسَلُ به پر اس زماں میں لوگو! نوحہ نیا یہی ہے ہم بد نہیں ہیں کہتے اُن کے مقدسوں کو تعلیم میں ہماری حکم خدا یہی ہے ہم کو نہیں سکھاتا وہ پاک بد زبانی تقویٰ کی جڑھ یہی ہے صدق وصفا یہی ہے