دُرِّثمین اُردو — Page 77
44 انذار اشتہار واجب الاظهار از طرف این خاکسار دربارہ پیشگوئی زلزلہ دوستو ! جا گو کہ اب پھر زلزلہ آنے کو ہے پھر خدا قدرت کو اپنی جلد دکھلانے کو ہے وہ جو ماہ فروری میں تم نے دیکھا زلزلہ تم یقیں سمجھو کہ وہ اِک زجر سمجھانے کو ہے آنکھ کے پانی سے یا رو! کچھ کرو اس کا علاج آسماں اے غافلواب آگ برسانے کو ہے کیوں نہ آویں زلزلے، تقویٰ کی رہ گم ہو گئی اِک مُسلماں بھی مسلماں صرف کہلانے کو ہے کس نے مانا مجھ کوڈر کر کس نے چھوڑا بغض و کیں زندگی اپنی تو اُن سے گالیاں کھانے کو ہے کا فرو دجال اور فاسق ہمیں سب کہتے ہیں کون ایماں صدق اور اخلاص سے لانے کو ہے جس کو دیکھو بدگمانی میں ہی حد سے بڑھ گیا گر کوئی پوچھے تو سو سو عیب بتلانے کو ہے چھوڑتے ہیں دیں کو اور دنیا سے کرتے ہیں پیار سو کریں وعظ و نصیحت کون پچھتانے کو ہے ہاتھ سے جاتا ہے دل دیں کی مصیبت دیکھ کر پر خدا کا ہاتھ اب اس دل کو ٹھہرانے کو ہے اس لیے اب غیرت اس کی کچھ تمہیں دکھلائے گی ہر طرف یہ آفت جاں ہاتھ پھیلانے کو موت کی رہ سے ملے گی اب تو دیں کو کچھ مدد ور نہ دیں اے دوستو ! اک روز مر جانے کو ہے یا تو اک عالم تھا قرباں اُس پہ یا آئے یہ دن ایک عبدالعبد بھی اس دیں کے جھٹلانے کو ہے چشمه سیحی ٹائیٹل پیج صفحه ۲ مطبوعہ ۱۹۰۶ء