دُرِّثمین اُردو — Page 29
۲۹ نہ جانا کہ الہام ہے کیمیا اسی سے تو ملتا ہے گنج لقاء اسی سے تو عارف ہوئے بادہ نوش اسی سے تو آنکھیں کھلیں اور گوش یہی ہے کہ نائب ہے دیدار کا یہی ایک چشمہ ہے اسرار کا اسی سے ملے اُن کو نازک علوم اسی سے تو اُنکی ہوئی جگ میں دھوم خدا پر خدا سے یقیں آتا ہے وہ باتوں سے ذات اپنی سمجھاتا ہے کوئی یار سے جب لگاتا ہے دل تو باتوں سے لذت اُٹھاتا ہے دل کہ دلدار کی بات ہے اک غذا مگر تو ہے منکر تجھے اس سے کیا نہیں تجھ کو اس رہ کی کچھ بھی خبر تو واقف نہیں اس سے اے بے ہنر ! وہ ہے مہربان و کریم و قدیر قسم اُس کی ! اُس کی نہیں ہے نظیر جو ہوں دل سے قربان رب جلیل نہ نقصاں اُٹھاویں نہ ہوویں ذلیل اسی سے تو نانک ہوا کامیاب کہ دل سے تھا قربان عالی جناب بتایا گیا اس کو الہام میں کہ پائے گا تو مجھ کو اسلام میں یقیں ہے کہ نانک تھا ملہم ضرور نہ کر وید کا پاس اے پُرغرور ! دیا اس کو کرتار نے وہ گیان کہ ویدوں میں اُس کا نہیں کچھ نشان اکیلا وہ بھاگا ہنودوں کو چھوڑ چلا مکہ کو ہند سے منہ کو موڑ گیا خانہ کعبہ کا کرنے طواف مسلماں بنا پاک دل بے خلاف