دُرِّثمین اُردو — Page 28
۲۸ مگر کوئی معشوق ایسا نہیں کہ عاشق سے رکھتا ہو یہ بغض و کیں اگر خدا پر تو پھر یہ گماں عیب ہے کہ وہ راحم و عالم الغیب ہے وہ نہ بولے تو کیونکر کوئی یقیں کر کے جانے کہ ہے مُخْتَفِی جائے کہ ہے مختفی وہ کرتا ہے خود اپنے بھگتوں کو یاد کوئی اُس کے رہ میں نہیں نامراد مگر دید کو اس سے انکار ہے اسی سے تو بے خیر و بے کار ہے کرے کوئی کیا ایسے طومار کو بلا کر دکھاوے نہ جو یار کو وہ ویدوں کا ایشر ہے یا اک حجر کہ بولے نہیں جیسے اِک گنگ و گڑ تو پھر ایسے ویدوں سے حاصل ہی کیا ذرا سوچو اے یارو بہر خدا ! وہ انکار کرتے ہیں الہام سے کہ ممکن نہیں خاص اور عام سے یہی سالکوں کا تو تھا مدعا اسی سے تو کھلتی تھیں آنکھیں ذرا اگر یہ نہیں پھر تو وہ مر گئے کہ بے سود جاں کو فدا کر گئے یہ دیدوں کا دعوئی سنا ہے ابھی کہ بعد اُن کے ملہم نہ ہو گا کبھی وہ کہتے ہیں یہ کوچہ مسدود ہے تلاش اس کی عارف کو بے سود ہے رف او بے سود ہے وہ غافل ہیں رحماں کے اُس داب سے کہ رکھتا ہے وہ اپنے احباب سے اگر اُن کو اس رہ سے ہوتی خبر اگر صدق کا کچھ بھی رکھتے اثر تو انکار کو جانتے جائے شرم یہ کیا کہہ دیا وید نے ہائے شرم !