دُرِّثمین اُردو

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 185 of 195

دُرِّثمین اُردو — Page 185

۱۸۵ ۱۲ الله الد کیسے کافر ہیں مانتے ہی نہیں ہم نے سو سو طرح اس غرض سے کہ زندہ سے سمجھایا یہ ہوویں ہم نے مرنا بھی دل میں ٹھہرایا و بھر گیا باغ اب تو پھولوں سے آؤ بلبل چلیں کہ وقت آیا 000 جب سے اے یار! تجھے یار بنایا ہم نے ہر نئے روز نیا نام رکھایا ہم نے کیوں کوئی خلق کے طعنوں کی ہمیں دے دھمکی تو سب نقش دل اپنے سے مٹایا ہم نے 500 اگر وہ جاں کو طلب کرتے ہیں تو جاں ہی سہی بلا سے کچھ تو نیٹ جائے فیصلہ دل کا اگر ہزار بلا ہو تو دل نہیں ڈرتا ذرا تو دیکھئے کیسا ہے حوصلہ دل کا 500 ۱۲- رساله تشخیذ الاذہان ماہ دسمبر ۱۹۰۹ء ۱۳ از مسودات حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۴- اخبار الفضل ۳۱ دسمبر ۱۹۱۳ء