دُرِّثمین اُردو — Page 183
۱۸۳ ♡ لد -۶ -۷ ہم نے الفت میں تیری بار اُٹھایا کیا کیا تجھ کو دکھلا کے فلک نے ہے دکھایا کیا کیا 000 جو ہمارا تھا وہ اب دلبر کا سارا ہو گیا آج ہم دلبر کے اور دلبر ہمارا ہو گیا شکر لِلہ! مل گیا ہم کو وہ لعلِ بے بدل کیا ہوا گر قوم کا دل سنگ خارا ہو گیا 000 پیش گوئی کا جب انجام ہویدا ہو گا! قدرت حق کا عجب ایک تماشا ہو گا جھوٹ اور سچ میں جو ہے فرق وہ پیدا ہو گا کوئی پا جائے گا عزت کوئی رُسوا ہو گا! 000 لوگوں کے بغضوں سے اور کینوں سے کیا ہوتا ہے جس کا کوئی بھی نہیں اُس کا خدا ہوتا ہے بے خدا کوئی بھی ساتھی نہیں تکلیف کے وقت اپنا سایہ بھی اندھیرے میں جُدا ہوتا ہے ۴۔ اشتہار محک اخیار واشرار (سرمه چشم آریہ ) مطبوعہ ۱۸۸۶ء ازالہ اوہام حصہ دوم صفحہ ۶۶۵ مطبوعہ ۱۸۹۱ء آئینہ کمالات اسلام صفحہ ۲۸۱ مطبوعہ ۱۸۹۳ء ۔ حاشیہ اشتہار معیار الا خیار والا شرار مطبوعه ۱۷ / مارچ ۱۸۹۴ء