دُرِّثمین اُردو

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 180 of 195

دُرِّثمین اُردو — Page 180

۱۸۰ بدظنی سے بچو سے اگر دل میں تمہارے شر نہیں ہے تو پھر کیوں ظن بد سے ڈر نہیں ہے کوئی جو ظن بد رکھتا ہے عادت بدی خود وہ رکھتا ہے ارادت گمان بد شیاطیں کا ہے پیشہ نہ اہلِ عفت و دیں کا ہے پیشہ تمہارے دل میں شیطاں دے ہے بچے اسی سے ہیں تمہارے کام کچے وہی کرتا ہے ظن بد بلا ریب کہ جو رکھتا ہے پردہ میں وہی عیب وہ فاسق ہے کہ جس نے رہ گنوایا نظر بازی کو اک پیشہ بنایا مگر عاشق کو ہرگز بد نہ کہیو ! وہاں بدظنیوں سے بچ کے رہیو اگر عشاق کا ہو پاک دامن یقیں سمجھو کہ ہے تریاق دامن مگر مشکل یہی ہے درمیاں میں کہ گل بے خار کم ہیں بوستاں میں تمہیں یہ بھی سُناؤں اس بیاں میں کہ عاشق کس کو کہتے ہیں جہاں میں سے آ لگا تیر وہ عاشق ہے کہ جس کو حسب تقدیر محبت کی کماں نہ شہوت ہے نہ ہے کچھ نفس کا جوش ہوا الفت کے پیمانوں سے مدہوش لگی سینہ میں اُس کے آگ غم کی نہیں اس کو خبر کچھ پیچ و خم کی از مسودات حضرت مسیح موعود علیہ السلام