دُرِّثمین اُردو

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 177 of 195

دُرِّثمین اُردو — Page 177

۱۷۷ پیش گوئی جنگ عظیم یہ نشان زلزلہ جو ہو چکا منگل کے دن وہ تو اک لقمہ تھا جو تم کو کھلایا ہے نہار اک ضیافت ہے بڑی اے غافلو کچھ دن کے بعد جس کی دیتا ہے خبر فرقاں میں رحماں بار بار فاسقوں اور فاجروں پر وہ گھڑی دُشوار ہے جس سے قیمہ بن کے پھر دیکھیں گے قیمہ کا بگھار خوب کھل جائیگا لوگوں پہ کہ دیں کس کا ہے دیں پاک کر دینے کا تیر تھ کعبہ ہے یا ہر دوار وجی حق کے ظاہری لفظوں میں ہے وہ زلزلہ لیک ممکن ہے کہ ہو کچھ اور ہی قسموں کی مار کچھ ہی ہو پر وہ نہیں رکھتا زمانہ میں نظیر فوق عادت ہے کہ سمجھا جائے گا روز شمار اُس ا بلا بلا ۔ سے وہ تو ہے اک حشر کا نقش و نگار یہ جو طاعوں ملک میں ہے اسکو کچھ نسبت نہیں وقت ہے تو بہ کرو جلدی مگر کچھ رحم ہو! سُست کیوں بیٹھے ہو جیسے کوئی پی کر کو کنار تم نہیں لوہے کے کیوں ڈرتے نہیں اس وقت سے جس سے پڑ جائیگی اک دم میں پہاڑوں میں بغار وہ تباہی آئے گی شہروں پہ اور دیہات پر جس کی دنیا میں نہیں ہے مثل کوئی زینہار ایک دم میں غم کرے ہو جا ئینگے عشرت کدے شادیاں کرتے تھے جو پیٹیں گے ہو کر سوگوار وہ جو تھے اونچے محل اور وہ جو تھے قصرِ بریں پست ہو جا ئینگے جیسے پست ہو اک جائے غار ایک ہی گردش سے گھر ہو جائیں گے مٹی کا ڈھیر جس قدر جانیں تلف ہوں گی نہیں ان کا شمار پر خدا کا رحم ہے کوئی بھی اس سے ڈر نہیں اُن کو جو جھکتے ہیں اس درگہ پہ ہو کر خاکسار یہ خوشی کی بات ہے سب کام اُس کے ہاتھ ہے وہ جو ہے دھیما غضب میں اور ہے آمرزگار