دُرِّثمین اُردو

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 176 of 195

دُرِّثمین اُردو — Page 176

۱۷۶ درس توحید وہ دیکھتا ہے غیروں سے کیوں دل لگاتے ہو جو کچھ بتوں میں پاتے ہو اُس میں وہ کیا نہیں سورج پہ غور کر کے نہ پائی وہ روشنی جب چاند کو بھی دیکھا تو اُس پار سا نہیں واحد ہے لاشریک ہے اور لازوال ہے سب موت کا شکار ہیں اُس کو فنا نہیں سب خیر ہے اسی میں کہ اس سے لگاؤ دِل ڈھونڈو اسی کو یارو! بتوں میں وفا نہیں اس جائے پُر عذاب سے کیوں دل لگاتے ہو دوزخ ہے یہ مقام یہ بستاں سرا نہیں 000 رسالة تشحید الاذہان ماہ دسمبر ۱۹۰۸ء