دُرِّثمین اُردو — Page 172
۱۷۲ کون سی آنکھیں جو اُس کو دیکھ کر روتی نہیں کون سے دل ہیں جو اس غم سے نہیں ہیں بے قرار کھا رہا ہے دیں طمانچے ہاتھ سے قوموں کے آج اک تزلزل میں پڑا اسلام کا عالی منار یہ مصیبت کیا نہیں پہنچی خدا کے عرش تک کیا نیس الدیں نہاں ہو جائے گا اب زیر غار جنگ روحانی ہے اب اس خادم و شیطان کا دل گھٹا جاتا ہے یا رب سخت ہے یہ کارزار ہر نبی وقت نے اس جنگ کی دی تھی خبر کر گئے وہ سب دعا ئیں با دو چشم اشکبار اے خدا شیطاں پہ مجھ کو فتح دے رحمت کے ساتھ وہ اکٹھی کر رہا ہے اپنی فوجیں بے شمار جنگ یہ بڑھ کر ہے جنگ روس اور جاپان سے میں غریب اور ہے مقابل پر حریف نامدار دل نکل جاتا ہے قابو سے پیشکل سوچ کر اے مری جاں کی پناہ فوج ملائک کو اُتار بستر راحت کہاں ان فکر کے ایام میں غم سے ہر دن ہورہا ہے بدتر از شب ہائے تار لشکر شیطاں کے نرغے میں جہاں ہے گھر گیا بات مشکل ہو گئی قدرت دکھا اے میرے یار نسلِ انساں سے مرداب مانگنا بیکار ہے اب ہماری ہے تری درگاہ میں یارب پکار کیوں کریں گے وہ مردان کو مدد سے کیا غرض ہم تو کافر ہو چکے اُن کی نظر میں بار بار پر مجھے رہ رہ کے آتا ہے تعجب قوم سے کیوں نہیں وہ دیکھتے جو ہو رہا ہے آشکار شکر اللہ میری بھی آئیں نہیں خالی گئیں کچھ بنیں طاعوں کی صورت کچھ زلازل کے بخار اس طرف طاعون خونی کھا رہا ہے ملک کو ہو رہے ہیں صد ہزاراں آدمی اُس کا شکار