دُرِّثمین اُردو — Page 171
۱۷۱ مجھ کو بس ہے وہ خدا عہدوں کی کچھ پر وانہیں ہو سکے تو خود بنو مہدی بحکم کردگار افتر العنت ہے اور ہر مفتری ملعون ہے پھر لعیں وہ بھی ہے جو صادق سے رکھتا ہے نقار تشنہ بیٹھے ہو کنار جوئے شیریں حیف ہے سر زمین ہند میں چلتی ہے نہر خوشگوار ان نشانوں کو ذرہ سوچو کہ کس کے کام ہیں کیا ضرورت ہے کہ دکھلاؤ غضب دیوانہ وار مفت میں ملزم خدا کے مت بنوا کے منکر و یہ خدا کا ہے نہ ہے یہ مفتری کا کاروبار یہ فتوحات نمایاں یہ تواتر کیا یہ ممکن ہیں بشر سے کیا یہ مکاروں کا کار سے نشاں ایسی سرعت سے یہ شہرت نا گہاں سالوں کے بعد کیا نہیں ثابت یہ کرتی صدق قول کردگار کچھ تو سوچو ہوش کر کے کیا یہ معمولی ہے بات جس کا چرچا کر رہا ہے ہر بشر اور ہر دیار مٹ گئے چیلے تمہارے ہو گئی حجت تمام اب کہو کس پر ہوئی اے منکر ولعنت کی مار بندۂ درگاہ ہوں اور بندگی سے کام ہے کچھ نہیں ہے فتح سے مطلب نہ دل میں خوف ہار مت کرو بک بک بہت اُس کی دلوں پر ہے نظر دیکھتا ہے پاکی دل کو نہ باتوں کی سنوار کیسے پتھر پڑ گئے ہے ہے تمہاری عقل پر دیں ہے منہ میں گرگ کے تم گرگ کے خود پاسدار ہر طرف سے پڑ رہے ہیں دینِ احمد پر تبر کیا نہیں تم دیکھتے قوموں کو اور اُن کے وہ وار لے اب تک کئی ہزار خدا تعالیٰ کے نشان میرے ہاتھ پر ظاہر ہو چکے ہیں۔ زمین نے بھی میرے لئے نشان دکھلائے اور آسمان نے بھی اور دوستوں میں بھی ظاہر ہوئے اور دشمنوں میں بھی جن کے کئی لاکھ انسان گواہ ہیں اور ان نشانوں کو اگر تفصیلاً جداجد اشمار کیا جائے تو قریب وہ سارے نشان دس لاکھ تک پہنچتے ہیں ۔ فَالْحَمْدُ لِلَّهِ عَلَى ذَالِكَ منه