دُرِّثمین اُردو

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 166 of 195

دُرِّثمین اُردو — Page 166

۱۶۶ اے مرے پیارو! شکیب و صبر کی عادت کرو وہ اگر پھیلائیں بد بو تم بنو مُشک تتار نفس کو مارو کہ اُس جیسا کوئی دشمن نہیں چپکے چپکے کرتا ہے پیدا وہ سامانِ دِمار جس نے نفس دُوں کو ہمت کر کے زیر پا کیا چیز کیا ہیں اُس کے آگے رستم و اسفند یار گالیاں سن کر دعا دو پا کے دُکھ آرام دو کبر کی عادت جو دیکھو تم دکھاؤ انکسار تم نہ گھبراؤ اگر وہ گالیاں دیں ہر گھڑی چھوڑ دو ان کو کہ چھپوائیں وہ ایسے اشتہار چپ رہو تم دیکھ کر اُن کے رسالوں میں ستم دم نہ مارو گر وہ ماریں اور کر دیں حالِ زار دیکھ کر لوگوں کا جوش و غیظ مت کچھ غم کرو شدت گرمی کا ہے محتاج بارانِ بہار افترا اُن کی نگاہوں میں ہمارا کام ہے یہ خیال، اللہ اکبر، کس قدر ہے نابکار خیر خواہی میں جہاں کی خوں کیا ہم نے جگر جنگ بھی تھی صلح کی نیت سے اور کیس سے فرار پاک دل پر بدگمانی ہے یہ شقوت کا نشاں اب تو آنکھیں بند ہیں دیکھیں گے پھر انجام کار جبکہ کہتے ہیں کہ کاذب پھولتے پھلتے نہیں پھر مجھے کہتے ہیں کا ذب دیکھ کر میرے ثمار کیا تمہاری آنکھ سب کچھ دیکھ کر اندھی ہوئی کچھ تو اُس دن سے ڈرو یارو! کہ ہے روز شمار آنکھ رکھتے ہو ذرا سوچو کہ یہ کیا راز ہے کس طرح ممکن کہ وہ قدوس ہو کاذب کا یار یہ کرم مجھ پر ہے کیوں کوئی تو اس میں بات ہے بے سبب ہرگز نہیں یہ کاروبار کر دگار