دُرِّثمین اُردو

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 165 of 195

دُرِّثمین اُردو — Page 165

۱۶۵ کام دکھلائے جو تو نے میری نصرت کے لئے پھرتے ہیں آنکھوں کے آگے ہر زماں وہ کاروبار کس طرح تو نے سچائی کو مری ثابت کیا میں ترے قرباں مری جاں تیرے کاموں نثار ہے عجب اک خاصیت تیرے جمال کوسن میں جس نے اک چھپکار سے مجھ کو کیا دیوانہ وار اے کے پیارے ضلالت میں پڑی ہے میری قوم تیری قدر سے نہیں کچھ دور گر پائیں سُدھار مجھ کو کافر کہتے ہیں میں بھی انہیں مومن کہوں گر نہ ہو پر ہیز کرنا جھوٹ سے دیں کا شعار مجھ پہ اے واعظ نظر کی یار نے تجھ پر نہ کی حیف اُس ایماں پہ جس سے گھر بہتر لاکھ بار روضه آدم کہ تھا وہ نامکمل اب تلک میرے آنے سے ہوا کامل بجملہ برگ و بار وہ خدا جس نے نبی کو تھا زر خالص دیا زیور دیں کو بناتا ہے وہ اب مثلِ سُنار وہ دکھاتا ہے کہ دیں میں کچھ نہیں اکراہ وجبر دیں تو خود کھینچے ہے دل مثلِ بتِ سیمیں عذار بس یہی ہے رمز جو اُس نے کیا منع از جہاد تا اُٹھا دے دیں کی رہ سے جو اُٹھا تھا اِک غبار تا دکھاوے منکروں کو دیں کی ذاتی خوبیاں جن ہوں شرمندہ جو اسلام پر کرتے ہیں وار کہتے ہیں یورپ کے ناداں یہ نبی کامل نہیں وحشیوں میں دیں کو پھیلانا یہ کیا مشکل تھا کار پر بنانا آدمی وحشی کو ہے اک معجزہ معنی راز نبوت ہے اسی سے آشکار نور لائے آسماں سے خود بھی وہ اک نور تھے قوم وحشی میں اگر پیدا ہوئے کیا جائے عار روشنی میں مہر تاباں کی بھلا کیا فرق ہو گرچہ نکلے روم کی سرحد سے یا از زنگبار