دُرِّثمین اُردو — Page 162
۱۶۲ ملک روحانی کی شاہی کی نہیں کوئی نظیر گو بہت دُنیا میں گذرے ہیں امیر و تا جدار داغ لعنت ہے طلب کرناز میں کا عز و جاہ جس کا جی چاہے کرے اس داغ سے وہ تن فگار کام کیا عزت سے ہم کو شہرتوں سے کیا غرض گروہ ذلت سے ہو راضی اُس پہ سو عزّت شار ہم اُسی کے ہو گئے ہیں جو ہمارا ہو گیا چھوڑ کر دنیائے دُوں کو ہم نے پایا وہ نگار دیکھتا ہوں اپنے دل کو عرش رب العالمیں قرب اتنا بڑھ گیا جس سے ہے اترا مجھ میں یار دوستی بھی ہے عجب جس سے ہوں آخر دوستی آملی الفت سے الفت ہو کے دو دل پر سوار دیکھ لو میل و محبت میں عجب تاثیر ہے ایک دل کرتا ہے جھک کر دوسرے دل کو شکار کوئی ره نزدیک تر راہِ محبت سے نہیں طے کریں اس راہ سالک ہزاروں دشت خار اُس کے پانے کا یہی اے دوستو اک راز ہے کیمیا ہے جس سے ہاتھ آجائیگا زر بے شمار تیر تاثیر محبت کا خطا جاتا نہیں تیر انداز و! نہ ہونا سُست اس میں زینہار ہے یہی اک آگ تا تم کو بچاوے آگ سے ہے یہی پانی کہ نکلیں جس سے صدہا آبشار اس سے خود آ کر ملے گا تم سے وہ یا رازل اس سے تم عرفان حق پہنو گے پھولوں کے ہار وہ کتاب پاک و برتر جس کا فرقاں نام ہے وہ یہی دیتی ہے طالب کو بشارت بار بار جن کو ہے انکار اس سے سخت ناداں ہیں وہ لوگ آدمی کیونکر کہیں جب اُن میں ہے حمق حمار کیا یہی اسلام کا ہے دوسرے دینوں پر فخر کر دیا قصوں پہ سارا ختم دیں کا کاروبار