دُرِّثمین اُردو

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 161 of 195

دُرِّثمین اُردو — Page 161

۱۶۱ جسکو دیکھو آجکل وہ شوخیوں میں طاق ہے آہ رحلت کر گئے وہ سب جو تھے تقوی شعار منبروں پر اُنکے سارا گالیوں کا وعظ ہے مجلسوں میں انکی ہر دم سبّ و غیبت کا روبار جس طرف دیکھو یہی دنیا ہی مقصد ہو گئی ہر طرف اُس کے لئے رغبت دلائیں بار بار ایک کانٹا بھی اگر دیں کیلئے اُن کو لگے چیخ کر اس سے وہ بھاگیں شیر سے جیسے حمار ہر زماں شکوہ زباں پر ہے اگر ناکام ہیں دیں کی کچھ پروا نہیں دنیا کے غم میں سوگوار لوگ کچھ باتیں کریں میری تو باتیں اور ہیں میں فدائے یار ہوں گو شیخ کھینچے صد ہزار اے میرے پیارے بتا تو کس طرح خوشنود ہو نیک دن ہو گاؤ ہی جب تجھ پر ہوویں ہم شار جس طرح تو دور ہے لوگوں سے میں بھی دور ہوں ہے نہیں کوئی بھی جو ہو میرے دل کا رازدار نیک ظن کرنا طریق صالحانِ قوم ہے ایک سو پر دے میں ہوں اُن سے نہیں ہوں آشکار بے خبر دونوں ہیں جو کہتے ہیں بد یا نیک مرد میرے باطن کی نہیں ان کو خبر اک ذرہ وار ابن مریم ہوں مگر اُتر ا نہیں میں چرخ سے نیز مہدی ہوں مگر بے تیغ اور بے کار زار دیار ملک سے مجھ کو نہیں مطلب نے جنگوں سے ہے کام کام میرا ہے دلوں کو فتح کرنا نے ' تاج و تخت ہند قیصر کو مبارک ہو مدام ان کی شاہی میں میں پاتا ہوں رفاہِ روزگار مجھ کو کیا ملکوں سے میرا ملک ہے سب سے جدا مجھ کو کیا تاجوں سے میرا تاج ہے رضوان یار ہم تو بستے ہیں فلک پر اس زمیں کو کیا کریں آسماں کے رہنے والوں کو زمیں سے کیا نقار