درثمین فارسی (جلد اوّل) — Page 168
پس چو یک بیش و دیگر است کمی هم چنین در قبول فیض همی ham choneeN dar qaboole faiz hami pas choo yek beesh wa deegar ast kami پس جب ایک زیادہ اور دوسرا کم ہے تو اسی طرح فیض خداوندی کے قبول کرنے میں بھی ( ان کے مدارج ہیں ) خود نگه گن کنون ز صدق و صفا کہ چہ ثابت ہمیں شود زیں جا ke che saabit hameeN shawad zeeNjaa khod negeh kon۔ konooN ze sidqo safaa اب صدق وصفا کے ساتھ خود دیکھ لے کہ اس سے کیا ثابت ہوتا ہے شب تار است و خوف بیش از بیش از سیر خود روی مده سر خویش az sare khod rawi madeh sare kheesh shabe taar asto khauf beesh az beesh اندھیری رات ہے اور خوف بہت زیادہ ہے خودروی کی وجہ سے کہیں اپنا سر نہ دے دینا پس دیوار چوں نے دانی چون بدانی غیوب ربانی chooN bedaani ghoyoobe rab-baani pase deewaar chooN namey daani در جب تو دیوار کے پیچھے کی چیز نہیں جانتا پھر غیب خداوندی کو کیونکر جان سکتا ہے شگفتم که با چیں نقصان از چه بر عقل dar shegeftam ke baa choneeN noqsaaN می شوی نازاں az che bar 'aql mey shawi naazaaN میں حیران ہوں کہ باوجود اس قدر نقص کے تو عقل پر کسی وجہ سے نازاں ہے اینچه عقلست و اینچه معرفت است اینچه قهر خدا دو چشمت بست eeNche qahre khodaa do chashmat bast? eeNche 'aqlast wa eeNche ma'refat ast? یہ کیسی عقل اور کیسی معرفت ہے خدا کا یہ کیسا قہر ہے کہ جس نے تیری آنکھیں بند کر دی ہیں 165