امن کے شہزادہ کا آخری پیغام — Page 33
امن کے شہزادہ کا آخری پیغام سلوک اور احسان کے ساتھ پیش آنا ہمارے در نا ہمارے دین کی وصایا میں سے ایک وصیت ہے خدا کو واحد لاشریک جاننا پس ایک ضروری اور مفید کام کیلئے غیر ضروری کو ترک کرنا خدا کی شریعت کے مخالف نہیں ۔ حلال جاننا اور چیز ہے اور استعمال کرنا اور چیز ۔ دین یہ ہے کہ خدا کی منہیات سے پر ہیز کرنا اور اس کی رضا مندی کی راہوں کی طرف دوڑنا اور اس کی تمام مخلوق سے نیکی اور بھلائی کرنا اور ہمدردی سے پیش آنا اور دنیا کے تمام مقدس نبیوں اور رسولوں کو اپنے اپنے وقت میں خدا کی طرف سے نبی اور مصلح ماننا اور اُن میں تفرقہ نہ ڈالنا اور ہر ایک نوع انسان سے خدمت کے ساتھ پیش آنا ہمارے مذہب کا خلاصہ یہی ہے۔ پاک مذہب ۔ میں اس وقت کسی خاص قوم کو بے وجہ ملامت کرنا نہیں چاہتا اور نہ کسی کا دل دکھانا چاہتا ہوں بلکہ نہایت افسوس سے آہ کھینچ کر مجھے یہ کہنا پڑا ہے کہ اسلام وہ پاک اور صلح کار مذہب تھا جس نے کسی قوم کے پیشوا پر حملہ نہیں کیا اور قرآن وہ قابل تعظیم کتاب ہے جس نے قوموں میں صلح کی بنیاد ڈالی۔ اور ہر ایک قوم کے نبی کو مان لیا اور تمام دنیا میں یہ فخر 33