امن کے شہزادہ کا آخری پیغام — Page 31
امن کے شہزادہ کا آخری پیغام مسلمانوں سے آکر بغلگیر ہو جائیں یا مسلمان ہی ہندو بن کر اگنی والو وغیرہ کی پرستش وید کے حکم کے موافق شروع کر دیں اور اسلام کو الوداع کہہ دیں تو جن تنازعات کا نام پولیٹکل رکھتے ہیں وہ ایک دم میں ایسے معدوم ہو جائیں کہ گویا کبھی نہ تھے۔ پس اس سے ظاہر ہے کہ تمام بغضوں اور کینوں کی جڑھ دراصل اختلاف مذہب ہے ۔ یہی اختلاف مذہب قدیم سے جب انتہا تک پہنچتا رہا ہے تو خون کی ندیاں بہاتا رہا ہے ۔ اے مسلمانو ! جبکہ ہندو صاحبان تمہیں بوجہ اختلاف مذہب کے ایک غیر قوم جانتے ہیں اور تم بھی اس وجہ سے ان کو ایک غیر قوم خیال کرتے ہو پس جب تک اس سبب کا ازالہ نہ ہوگا۔ کیونکر تم میں اور ان میں سچی صفائی پیدا ہوسکتی ہے۔ ہاں ممکن ہے کہ منافقانہ طور پر باہم چند روز کے لئے میل جول بھی ہو جائے ۔ مگر وہ دلی صفائی جس کو در حقیقت صفائی کہنا چاہئے صرف اسی حالت میں پیدا ہو گی جبکہ آپ لوگ وید اور وید کے رشیوں کو سچے دل سے خدا کی طرف سے قبول کر لو گے اور ایسا ہی ہندو لوگ بھی اپنے بخل کو دور کر کے ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کی تصدیق کر لیں گے۔ 31