القصائد الاحمدیہ — Page 87
۸۷ فَقَدْ كَذَّبُوا بِالْحَقِّ لَمَّا جَاءَهُمْ فَسَوْفَ يُرِيهِمْ رَبُّنَا مَا كَذَّبُوا سو انہوں نے سچ کو جھٹلا دیا ہے جب وہ ان کے پاس آیا سو ضرور انہیں دکھا دے گا ہمارا رب کہ انہوں نے کس چیز کو جھٹلایا ہے۔ وَقَدْ كُذِّبَتْ قَبْلِي عِبَادٌ ذَوُوا التَّقَى فَصَبَرُوا عَلَى مَا كُذِّبُوا وَ تَرَقَّبُوا مجھ سے پہلے کئی تقوی شعار بندے جھٹلائے گئے تو انہوں نے صبر کیا تکذیب کیا جانے پر اور انجام کا انتظار کیا۔ فَلَمَّا نَسُوا فَحْوَاءَ مَا ذُكِّرُوا بِهِ أُسِفَ وُجُوهُ قُلُوبِهِمْ مَّا قَلَّبُوا جب وہ (مخالف ) اس بات کا مطلب جس کے ذریعہ نصیحت کئے گئے تھے بھول گئے تو ان کے دلوں کی صورت جو انہوں نے بدل دی تھی متغیر کر دی گئی۔ تَحَامَوْن بِالْحِقْدِ المُدَمِّرِ كُلُّهُمْ وَأَمَّهُمُ الشَّيْخُ السَّفِيهُ الْمُعْجَبُ انہوں نے مجھ سے اجتناب کیا ہلاک کرنے والے کینے کی وجہ سے سب کے سب نے۔ اور ایک کم عقل مغرور شیخ ان کا پیشوا بنا ہے۔ وَكَيْفَ أَخَافُ عِنَادَ قَوْمٍ مُّفْنِدٍ وَيَعْتَامُنِي رَبِّي عَلَيْهِمْ وَيَصْحَبُ اور میں جھوٹی قوم کے عناد سے کیسے ڈروں اس حال میں کہ میرا رب مجھ کو ان پر فضیلت دے رہا ہے اور میرا ساتھ دے رہا ہے۔ فَأَبْغِي رِضَا رَبِّي وَمَا أَخْشَى الْعِدَا وَلِحَرْبِ أَعْدَاءِ الْهُدَى أَتَاهَبُ پس میں اپنے رب کی رضا چاہتا ہوں اور دشمنوں سے ڈرتا نہیں اور ہدایت کے دشمنوں سے جنگ کے لئے میں تیاری کر رہا ہوں۔ وَلِكُلِّ نَبَا مُسْتَقَرٌّ مُعَيَّنٌ وَمَا تُبْسَلُ نَفْسٌ قَبْلَ وَقْتٍ يُكْتَبُ ا اور ہر خبر کے لیے ایک وقت معین ہے اور کوئی نفس بھی مقدر وقت سے پہلے ہلاک نہیں کیا جاتا۔ وَإِنَّ هُدَى اللَّهِ الْعَلِيمِ هُوَ الْهُدَى وَيَعْلَمُ مَا نَدَعَنُ وَمَا نَحْنُ نَكْسِبُ اور اللہ علیم کی ہدایت ہی اصل ہدایت ہے اور وہ جانتا ہے جو بات ہم چھوڑ دیتے ہیں اور جو کرتے ہیں ۔ وَيَدْرِي أَنَاسًا كَفَّرُوْنَا وَكَذَّبُوا إِذَا ادَّارَكُوا لِنِضَالِهِمْ وَ تَحَذَّبُوا اور وہ ان لوگوں کو جانتا ہے جنہوں نے ہماری تکفیر اور تکذیب کی۔ جب وہ اپنی لڑائی کے لیے جمع ہو گئے اور ٹولیاں بنالیں۔ قَلانِي الْوَرَى حَتَّى الْأَقَارِبَ كُلُّهُمْ فَمِنْهُمْ كَشُعْبَانٍ وَّمِنْهُمْ عَقْرَبُ مخلوق نے مجھ سے دشمنی کی حتی کہ سب اقرباء نے بھی۔ بعض تو ان میں سے اثر دھا کی طرح ہیں اور بعض ان میں سے بچھو ہیں۔