القصائد الاحمدیہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 86 of 390

القصائد الاحمدیہ — Page 86

۸۶ وَ وَاللَّهِ إِنَّ شِقَاكَ هَيَّجَ لِي البُكَا لَدَى عَيْنِ إِحْيَاءٍ تَمُوتُ وَ تُتَغَبُ اور خدا کی قسم ! تیری شقاوت نے مجھ میں آہ و بکا کا جوش پیدا کر دیا ہے۔ تو زندگی دینے والے چشمے کے پاس مرر ہا اور ہلاک ہو رہا ہے۔ الَا تَعْرِفَنُ قِصَصَ الَّذِيْنَ تَمَرَّدُوا فَمَالَكَ تَدْرِي سَمَّ ذَنْبٍ وَ تُذْنِبُ کیا تو ان لوگوں کے واقعات نہیں جانتا جنہوں نے سرکشی اختیار کی۔ پس تجھے کیا ہو گیا ہے کہ تو گناہ کے زہر کو تو جانتا ہے اور پھر گناہ کرتا ہے۔ ا تُدَامُ بَيْنَ الاقْرَبِينَ كَبَاطِرِ وَإِنَّ غَدَاةَ الْبَيْنِ أَدْنَى وَ أَقْرَبُ کیا تو ہمیشہ اپنے قریبیوں میں اترانے والے کی طرح ہی بنارہے گا حالانکہ جدائی کی صبح بہت نزدیک اور بہت ہی قریب ہے۔ وَمِثْلُكَ جَافٍ قَدْ خَلَا وَمُكَذِّبُ فَأَبَادَهُمْ رَبُّ قَدِيرٌ مُّعَذِّبُ اور تیرے جیسے بہت سے ظالم گزر چکے ہیں اور مکتب بھی ۔ سوہلاک کر دیا ان کو رب قدیر عذاب دینے والے نے ۔ سَيَسْلُبُ مِنْكَ الضُّعْفُ وَالشَّيْبُ قُوَّةً وَ مَا اِنْ اَرَى عَنْكَ الْغَوَايَةُ تُسْلَبُ عنقریب تجھ سے ضعف اور بڑھا پا قوت چھین لے گا اور میں نہیں سمجھتا کہ گمراہی تجھ سے چھینی جائے گی۔ فَاكْفِرُ وَ كَذَّبُ أَيُّهَا الشَّيْخُ دَائِمًا وَإِنِّي بِفَضْلِ اللَّهِ رَجُلٌ مُّهَذَّبُ پس اے شیخ! تو ہمیشہ کا فر کہتا اور تکذیب کرتا رہ اور میں تو اللہ کے فضل سے ایک شائستہ مزاج آدمی ہوں ۔ وَ الْهَمَنِي رَبِّي وَ اَعْطَى مَعَارِفًا فَبِنُورِهِ الْأَجْلَى إِلَى الْحَقِّ انْدُبُ اور میرے رب نے مجھے الہام کیا ہے اور معارف عطا کئے ہیں ۔ سواسی کے روشن نور سے میں حق کی طرف زور سے دعوت دے رہا ہوں۔ اتَغْفُلُ مِنْ قَهْرِ الْحَسِيبِ وَاخْذِهِ وَتُذْعِرُنَا مِنْ جَوْرِ خَلْقٍ وَتُرْعِبُ کیا تو محاسبہ کرنے والے خدا کے قہر اور گرفت سے غافل ہے اور تو ہم کو مخلوق کے ظلم سے ڈراتا اور مرعوب کرنا چاہتا ہے؟ نَجَاتُكَ مِنْ جَذْبَاتِ نَفْسِكَ مُشْكِلٌ يُزِلُّ الْغُلَامَ الْخَفْرَ بَكْرٌ هَوْزَبُ تیرا اپنے جذبات نفس سے نجات پانا مشکل بات ہے۔ شرمیلے ( ناتجربہ کار) لڑکے کو تیز رواونٹ پھسلا کر گرا دیتا ہے۔ إِلَى اللَّهِ مَرْجِعُنَا فَيُظْهِرُ خَبَّأَنَا عَلَى الْأَشْقِيَاءِ وَكُلُّ أَمْرٍ مُّرَتَبُ اللہ کی طرف ہماری بازگشت ہے وہ ہمارے پوشیدہ راز کو اشقیاء پر ظاہر کر دے گا اور ہر کام کے لئے ایک ترتیب ہے۔