القصائد الاحمدیہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 81 of 390

القصائد الاحمدیہ — Page 81

M تُوُفِّيَ عِيسَى هَكَذَا قَالَ رَبُّنَا صَرِيحًا فَصَدَّقْنَا وَ لَا نَتَرَيَّبُ عیسی تو وفات پا گیا ہے۔ اسی طرح ہمارے رب نے صراحت سے کہا ہے سو ہم اس کی تصدیق کرتے ہیں اور شک نہیں کرتے۔ وَكَيْفَ نُكَذِّبُ آيَةً هِيَ قَوْلُهُ وَتَصْدِيقُ كَلِمَتِهِ أَهَم وَ أَوْجَبُ اور کیسے جھٹلا سکتے ہیں ہم اس آیت کو جو خدائی قول ہے اور خدا کی باتوں کی تصدیق تو بہت ہی ضروری اور بہت ہی واجب ہے۔ نَهى خَالِقِي أَنْ نُحْيِيَنَّ ابْنَ مَرْيَمَ وَ تِلْكَ الَّتِي كَفَّرُتَ مِنْهَا وَ تَنْصَبُ میرے خالق نے منع کر دیا ہے کہ ہم ابن مریم کو زندہ قرار دیں۔ یہی وہ مسئلہ ہے جس کی وجہ سے تو نے تکفیر کی ہے اور تو یونہی مشقت اٹھا رہا ہے۔ وَ لَمْ يَبْقَ لِي فِي مَوْتِهِ رِيحُ رِيبَةٍ لِمَا الْهَمَنِي مَلِكٌ صَدُوقٌ مُّتَوِّبُ اور میرے لئے تو اس کی موت میں شک کی بو تک باقی نہیں رہی اس وجہ سے کہ مجھے الہام کیا ہے سچے بادشاہ نے جو متوجہ ہونے والا ہے۔ أَقُولُ وَ لَا أَخْشَى فَإِنِّي مَثِيلُهُ وَلَوْ عِنْدَ هَذَا الْقَوْلِ بِالسَّيْفِ أُضْرَبُ میں کہتا ہوں اور ڈرتا نہیں کہ بے شک میں اس کا مثیل ہوں خواہ یہ بات کہنے پر مجھے تلوار سے بھی مار دیا جائے۔ وَ وَاللَّهِ إِنِّي جِئْتُ حِيْنَ مَجِينِهِ وَهُوَ فَارِسٌ حَقًّا وَإِنِّي مُحْقِبُ اور خدا کی قسم ! میں آیا ہوں اس کی آمد کے وقت پر سوار تو وہ یقینا ہے لیکن میں اسے اپنے پیچھے سوار کر کے لایا ہوں۔ وَقَدْ جَاءَ فِي الْقُرْآنِ ذِكْرُ وَفَاتِهِ وَمَا جَاءَ فِيهِ هُوَ الَّذِي هُوَ أَصْوَبُ اور قرآن میں اس کی وفات کا ذکر آ چکا ہے اور جو کچھ اس میں آیا ہے وہی زیادہ صحیح ہے۔ وَلَوْ كَانَ فِي الْقُرْآنِ أَمْرٌ خِلَافَةَ لَآثَرْتُهُ دِينًا وَلَا تَجَنَّبُ اور اگر قرآن میں اس کے برخلاف کوئی امر ہوتا تو میں دین کے طور پر اسے ہی اختیار کرتا اور اجتناب نہ کرتا۔ وَلَكِنْ كِتَابُ اللهِ يَشْهَدُ أَنَّهُ تَنَاوَلَ مِنْ كَأْسِ الْمَنَايَا فَتَعْجَبُ لیکن اللہ کی کتاب یہ گواہی دیتی ہے کہ یقیناً وہ موتوں کا پیالہ پی چکا ہے۔ پھر بھی تو حیران ہو رہا ہے۔ ا مِنْ غَيْرِ مَنْبَعِ هَدْيِهِ نَطْلُبُ الْهُدَى وَكُلٌّ مِّنَ الْفُرْقَانِ يُعْطَى وَيُرْهَبُ کیا ہم اس کی ہدایت کے چشمے کے سوا ہدایت طلب کریں حالانکہ ہر ایک شخص کو (ہدایت ) قرآن کریم سے ہی دی اور بخشی جاتی ہے۔