القصائد الاحمدیہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 60 of 390

القصائد الاحمدیہ — Page 60

۶۰ كِتَابٌ كَرِيمٌ أُحْكِمَتْ آيَاتُهُ وَحَيَاتُه يُحْيِ الْقُلُوبَ وَيُزْهِرُ وہ کتاب کریم ہے اس کی آیات محکم ہیں اور اس کی زندگی دلوں کو زندہ اور روشن کرتی ہے۔ يَدُعُ الشَّقِيَّ وَلَا يَمَسُّ نِكَاتَهُ وَيُرْوِي التَّقِيَّ هُدًى فَيَنْمُوْ وَ يُثْمِرُ وہ بد بخت کو دھکے دیتی ہے اور وہ اسکے نکات کو نہیں چھو سکتا اور وہ پر ہیز گار کو ہدایت سے سیراب کرتی ہے سو وہ نشو و نما پاتا ہے اور پھل دیتا ہے۔ وَ مَتَعَنِي مِنْ فَيُضِهِ لُطْفُ خَالِقِي وَإِنِّي رَضِيعُ كِتَابِهِ وَمُخَفَّرُ اور میرے رب کی مہر بانی نے اپنے فیض سے مجھے بہرہ ور کیا ہے۔ میں اس کی کتاب کا شیر خوار ہوں اور اسکی حفاظت میں ہوں ۔ كَرِيمٌ فَيُؤْتِي مَنْ يَشَاءُ عُلُوْمَهُ قَدِيرٌ فَكَيْفَ تُكَذِّبَنَّ وَ تَهْكَرُ وہ کریم ہے۔ وہ جسے چاہتا ہے اپنے علوم دیتا ہے وہ قدیر ہے۔ سوتو (اس بات کی) کیسے تکذیب کرتا ہے اور کیسے (اس پر ) تعجب کرتا ہے۔ وَ إِنِّي نَظَمُتُ قَصِيدَتِي مِنْ فَضْلِهِ لِتَعْلَمَ فَضْلَ اللَّهِ كَيْفَ يُخَيِّرُ اور میں نے خدا کے فضل سے اپنا قصیدہ منظوم کیا ہے تا کہ تو جان لے کہ اللہ کا فضل کس طرح برگزیدہ بنا دیتا ہے۔ تَعَالَ بِمَيْدَانِ النِّضَالِ شَجَاعَةً لِيَظْهَرَ عِلْمُكَ فِي الْجِدَالِ وَ تُسْبَرُ تو میدان مقابلہ میں آجا بہادری سے تا کہ تیرا علم مقابلے میں ظاہر ہو اور تو آزمایا جائے۔ تُرِيدُونَ ذِلَّتَنَا وَنَحْنُ هَوَانَكُمْ فَيُكْرِمُ رَبِّي مَنْ يَشَاءُ وَيَنْصُرُ تم لوگ ہماری ذلت چاہتے ہو اور ہم تمہاری ذلت ۔ سو میرا رب جسے چاہے گا عزت اور مدد دے گا۔ أَتَطْلُبُ مِنِّي أَيَةَ الْخِزْيِ وَالرَّدَى وَيَأْتِيكَ أَمُرُ اللَّهِ فَجْأَ فَتُبْتَرُ کیا تو مجھ سے رسوائی اور ہلاکت کے نشان کا طالب ہے؟ اور اللہ کا فیصلہ تجھ پر اچانک آجائے گا اور تو برباد ہو جائے گا۔ وَ حَمَدْتَنِي مِنْ قَبْلُ ثُمَّ ذَمَمْتَنِي فَقَدْ لَاحَ أَنَّكَ خَيْتَعُورٌ مُّزَوِّرُ اور تو نے پہلے میری تعریف کی پھر میری مذمت کی ۔ پس ظاہر ہو گیا ہے کہ بے شک تو متلون مزاج ( اور ) مگا رہے۔ وَ إِنِّي أَنَا الْخَطَّارُ إِنْ كُنْتَ طَاعِنَا رِمَاحِى مُثَقَّفَةٌ وَ سَيْفِي مُذَكَّرُ یک اور بے شک میں شدید نیزہ زن ہوں اگر تو نیزہ زنی کرنے والا ہو۔ میرے نیزے سیدھے کئے گئے ہیں اور میری تلوار فولا دی ہے۔