القصائد الاحمدیہ — Page 56
۵۶ وَجَاهَدْتُ لِلَّهِ الْكَرِيمِ لِهَدْيهِ فَمَا قَلَّ مِنْ أَوْهَامِهِ بَلْ تَكَثَرُ اور اللہ کریم کی خاطر میں نے اس کی ہدایت کے لئے زور لگایا لیکن اس کے اوہام میں کوئی کمی نہ آئی بلکہ وہ بڑھتے جارہے ہیں ۔ عَجِبْتُ لِخَتمِ اللَّهِ كَيْفَ أَضَلَّهُ يَرُدُّ النُّصُوصَ كَأَنَّهُ لَا يُبْصِرُ میں اللہ کی مہر پر حیران ہوں کہ اس نے اسے کیسا گمراہ قرار دیا کہ وہ نصوص کو اس طرح رڈ کر رہا ہے گویا کچھ دیکھتا ہی نہیں ۔ خَيَالَا تُه كَالنَّائِمِينَ ضَعِيفَةٌ نَؤُومٌ فَيُبْغِضُ كُلَّ مَنْ هُوَ يُسْهِرُ اس کے خیالات سونے والوں کی طرح کمزور ہیں۔ وہ سخت خواب غفلت میں ہے۔ سو وہ ہر جگانے والے سے بغض رکھتا ہے۔ وَ إِنَّا نُسَبِّدُهُ وِدَادًا وَ شَفْقَةً فَيَهُجُونِ مِنْ جَهْلٍ وَ لَا يَتَخَفَّرُ ہم تو اس کو دوستی اور شفقت سے جگاتے ہیں مگر وہ نادانی سے میری ہجو کرتا ہے اور شرم نہیں کرتا۔ لَهُ كُتُبُ السَّبُّ وَالشَّتْمُ حَشْوُهَا شَرِيرٌ فَيَسْتَقْرِى الشُّرُورَ وَ يَفْخَرُ اس کی کتابوں میں گالی گلوچ بھری ہوئی ہے۔ وہ شریر ہے بس شر کی تلاش میں رہتا ہے اور (اس پر ) فخر بھی کرتا ہے۔ يَغُوصُ كَدَلُو عِنْدَ خَوْضٍ فَيَرْجِعَنُ بِحَمْا وَمَا يَسْقِيهِ مَاءً تَفَكَّرُ وہ غور وخوض کے وقت ڈول کی طرح غوطہ لگاتا ہے اور کیچڑ لے کر لوٹتا ہے ایسے حال میں غور و فکر کر کہ یہ اسے کوئی پانی نہیں پلاتا ۔ بَعِيدٌ مِنَ التَّقْوى فَتَسْمَعُ أَنَّهُ كَبَاقُورَةِ الْأَضْحَى بِعِيدٍ يُنْحَرُ وہ تقویٰ سے دور ہے۔ تو سن لے گا کہ قربانی کی گائیوں کی طرح وہ کسی عید کے دن ذبح کیا جائے گا۔ لَقَدْ زَيَّنَ الشَّيْطَانُ أَقْوَالَهُ لَهُ يُوَسْوِسُهُ وَقْتًا وَ وَقْتًا يُكَوِّرُ شیطان نے اسکے اقوال اسکو خوبصورت کر دکھائے ہیں کبھی تو وہ اسے وسوسہ میں ڈالتا ہے اور کبھی اسکی عقل کو ڈھانپ دیتا ہے۔ وَاكْفَرَنِي بُخْلًا وَجَهْلًا وَّ دَنْأَةً وَ وَافَقَهُ خَلْقَ ضَرِيرٌ مُّدَعْثَرُ اس نے بخل، جہالت اور کمینہ پن سے میری تکفیر کی ہے اور (دینی لحاظ سے ) اندھوں اور احمق لوگوں نے اس سے موافقت کی ہے۔ يَقُولُونَ إِنَّا قَادِرُونَ عَلَى الأذى فَقُلْنَا اخْسَبُوا إِنَّ الْمُهَيْمِنَ أَقْدَرُ وہ کہتے ہیں کہ ہم دکھ دینے پر قادر ہیں پس ہم نے کہا دور ہو جا ؤ ا یقینا خدائے مھیمن سب سے زیادہ قدرت رکھنے والا ہے۔