القصائد الاحمدیہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 55 of 390

القصائد الاحمدیہ — Page 55

۵۵ يُكَفِّرُنِي شَيْخٌ وَ تَتْلُوهُ أُمَّةٌ وَمَا إِنْ أَرَاهُ كَعَاقِل يَتَدَبَّرُ ایک شیخ میری تکفیر کر رہا اور ایک گروہ اسکے پیچھے چل رہا ہے اور میں اسے ایسے دانشمند کی طرح نہیں پاتا جو تدبر سے کام لے۔ يُرِى ظَهْرَهُ عِنْدَ النِّضَالِ كَثَعْلَبِ وَكَالذَّنْبِ يَعْوِى حِيْنَ يَهْذِى وَ يَهْجُرُ مقابلہ کے وقت وہ لومڑی کی طرح اپنی پیٹھ دکھاتا ہے اور جب وہ بکواس اور بیہودہ گوئی کرتا ہے تو بھیڑیے کی طرح چلاتا ہے۔ غَبِيٌّ عَتِي أَضْرَمَ الْجَهْلُ غَيْظَةَ كَجُلُـمُوْدِ صَخْرٍ جَهْلُهُ لَا يُغَيَّرُ وہ کند ذہن اور سرکش ہے۔ جہالت نے اسکے غصے کو بھڑ کا دیا ہے۔ اسکی جہالت چٹان کے پتھر کی طرح تبدیل نہیں ہو سکتی ۔ وَ كَفَرَنِي بِالْحِقْدِ مِنْ غَيْرِ مَرَّةٍ فَقُلْتُ لَكَ الْوَيْلَاتُ إِنَّكَ أَكْفَرُ اور کینہ سے کئی مرتبہ اس نے میری تکفیر کی تب میں نے (اسے) کہا تیرے لئے ہلاکتیں ہوں تو تو سب سے بڑا کافر ہے۔ وَ يَسْعَى لايُذَائِي وَيَسْعَى بِزُورِهِ عَلَى حَرِيصٌ كَالْعِدًا لَوْ يَقْدِرُ وہ مجھے دکھ دینے کی کو دینے کی کوشش کرتا ہے اور اپنے جھوٹ کے ذریعہ چغل خوری کرتا ہے وہ دشمنوں کی طرح میرے خلاف حریص ہے اگر اسکا بس چل سکے۔ عَجِبْتُ لَهُ مَا يَتَّقِ اللَّهَ ذَرَّةً اَشِقُوَةُ هَذَا الْمَرْءِ أَمْرٌ مُّقَدَّرُ میں اس پر حیران ہوں کہ وہ خدا سے ذرہ برابر بھی نہیں ڈرتا۔ کیا اس آدمی کی شقاوت ایک امر مقد رہے؟ فَطَوْرًا يَرُدُّ الْبَيِّنَاتِ وَتَارَةً يُحَرِّفُ قَوْلَ الْمُصْطَفَى وَيُغَيِّرُ کبھی تو تو کھلے نشانوں کو ر ڈ کرتا ہے اور کبھی قول مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم میں تحریف اور تبدیلی کرتا ہے۔ قَصَدْتُ هُدَاهُ تَرَحُمًا فَتَمَايَلَ عَلَى الرِّجْسِ وَ الْبَلُوى فَكَيْفَ أَطَهِّرُ میں نے تو رحم سے اس کو ہدایت دینے کا ارادہ کیا تھا پر وہ پلیدی اور فساد پر مائل ہوا تو میں (اسے) کیسے پاک کروں ۔ وَ قَالَ يَمِينُ اللهِ مَالَكَ نَاصِرٌ فَآلَيْتُ إِنَّ اللَّهَ مَعْنَا فَنَظْفِرُ اور اس نے کہا اللہ کی قسم ! تیرا کوئی مددگار نہیں ہوگا۔ میں نے بھی قسم کھائی کہ یقیناً اللہ ہمارے ساتھ ہے پس ہم فتح پائیں گے۔ وَ لَمَّا أُرِيدُ عِلَاجَهُ مِنْ نَّصِيحَةٍ يَسُبُّ وَ يُبْدِي كُلَّمَا كَانَ يُضْمِرُ اور جب میں خیر خواہی سے اس کے علاج کا ارادہ کرتا ہوں تو وہ گالی دینے لگتا ہے اور جو کچھ دل میں چھپائے رکھتا تھا اسے ظاہر کر دیتا ہے۔